ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 125
125 ادب المسيح ہمہ جاشور تو بینم چه حقیقت چه مجاز سینۂ مشرک ومسلم ہمہ بریاں کردی میں سب جگہ تیرا ہی شور دیکھتا ہوں خواہ حقیقت ہو یا مجاز۔تو نے تو مشرک اور مومسن سب کے سینے جلا ڈالے ہیں۔اں مسیحا که بر افلاک مقامش گویند لطف کردی کہ ازیں خاک مرا آں کردی وہ میچ جس کا مقام آسمان پر بیان کرتے ہیں تو نے مہربانی فرمائی کہ اسی زمین میں سے مجھے وہی مسیح بنا دیا دعوی مجددیت عجب داریداے نا آشنایاں غافلان از دیں که از حق چشمه حیواں درمیں ظلمت شود پیدا اے دین سے غافل اور نا واقف انسانو۔کیا تمہیں تعجب آتا ہے کہ اس اندھیرے میں خدا کی طرف سے ایک چشمہ حیات پیدا ہو گیا ہے۔چرا انسان تعجب با کند در فکر این معنی که خواب آلودگان را رافع غفلت شود پیدا آدمی یہ بات سوچ کر کیوں حیران ہو کہ نیند کے متوالوں کے لیے ایک غفلت کا دور کرنے والا پیدا ہو گیا فراموشت شداے قوم احادیث نبی اللہ که نزد ہر صدی یک مصلح امت شود پیدا اے میری قوم تو رسول اللہ کی حدیثوں کو بھی بھول گئی کہ ہر صدی کے سر پر امت کے لیے ایک مصلح پیدا ہوا کرتا ہے۔آئینہ کمالات اسلام ٹائیٹل مطبوعہ 1893ء ) نذیر اور بشیر ہونے کے اعتبار سے ایک ہی مقام پر کس قدر خوبصورت اور باوقارا نداز میں انذار اور تبشیر ہے۔نشاں اگر چه نه در اختیار کس بودست مگر نشان بدهم از نشاں ز دادارم اگر چہ نشان کسی کے اختیار میں نہیں ہوتے مگر میں خدا کی طرف سے ایک نشان کا پتہ بتاتا ہوں کہ آں سعید ز طاعوں نجات خواهد یافت که جست و جست پنا ہے بچار دیوارم یعنی وہی خوش قسمت شخص طاعون سے نجات پائے گا جو جھپٹ کر میری چاردیواری کے اندر پناہ لے گا مرا قسم بخداوند خویش و عظمت او کہ ہست ایں ہمہ از وحی پاک گفتارم مجھے اپنے مالک کی اور اس کی بزرگی کی قسم ہے کہ میری یہ سب باتیں خدا پاک کی وحی سے ہیں