ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 113
113 ادب المسيح فرماتے ہیں۔نہیں حادثہ بنیاد دیں زجا ببرد اگر ز ملت ما ظل شال جدا باشد حادثات کی غارتگری دین کی بنیاد کو ہلا دے اگر ہمارے مذہب سے ان لوگوں کا سایہ الگ ہو جائے اور فرماتے ہیں: ازین بود که چو سال صدی تمام شود بر آید آنکه بدیں نائب خُدا باشد یہی وجہ ہے کہ جب صدی کے سال ختم ہوتے ہیں تو ایسا مرد ظاہر ہوتا ہے جو دین کے لیے خدا کا قائمقام ہوتا ہے اور پھر اس وضاحت کے بعد فرماتے ہیں: رسید مژده زعیم کہ من ہماں مردم که او مجدد ایں دین و رہنما باشد مجھے غیب سے یہ خوشخبری ملی ہے کہ میں وہی انسان ہوں جو اس دین کا مجد د اور راہ نما ہے لوائے ما پنہ ہر سعید خواهد بود ندائے فتح نمایاں بنام ما باشد ہمارا جھنڈا ہر خوش قسمت انسان کی پناہ ہو گا۔اور کھلی کھلی فتح کا شہرہ ہمارے نام پر ہوگا۔اس گریز میں کمال فن کے بعد حضور قصیدہ کا تیسرا رکن اختیار فرماتے ہیں اور اپنے مقصد اور مدعا کے اظہار کے طور پر اپنے دعاوی بیان فرماتے ہیں۔آپ حضرت اپنے دعاوی کے صدق کے بیان میں تقریباً ایک صد اشعار میں اپنا روحانی منصب بیان کر کے اپنی سماوی تعلیم کو قبول کرنے کی تلقین فرماتے ہیں اور کس قدر خوبصورتی اور وقار اور تمکنت سے فرماتے ہیں۔اول آپ کے دعاوی کو ایک مقام پر مشاہدہ کریں۔فرماتے ہیں: برآید آنکه بدیں نائب خدا باشد از میں بود که چو سال صدی تمام شود یہی وجہ ہے کہ جب صدی کے سال ختم ہوتے ہیں تو ایسا مردظاہر ہوتا ہے جو دین کیلئے خدا کا قائم مقام ہوتا ہے رسید مژده زغیم کہ من ہماں مردم که او مجدد ایں دین و رہنما باشد مجھے غیب سے یہ خوشخبری ملی ہے کہ میں وہی انسان ہوں جو اس دین کا مجد د اور راہنما ہے۔منم مسیح بیانگ بلند می گویم منم خلیفہ شا ہے کہ برسا باشد میں بلند آواز سے کہتا ہوں کہ میں ہی مسیح ہوں اور میں ہی اُس بادشاہ کا خلیفہ ہوں جو آسمان پر ہے مویدے کہ مسیحا دمست و مهدی وقت بشان او دگرے گے نہ اتقیا باشد وہ تائید یافتہ شخص جو مسیحا دم اور مہدی وقت ہے اُسکی شان کو اتقیا میں سے کوئی نہیں پہنچ سکتا