ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 112 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 112

ب المسيح 112 نثر نگار آپ کی گرد کو بھی نہیں پہنچتا۔اس بیان کی عظمت اور شوکت اور شعری زبان پر مقدرت اور حسن بیان کے اظہار کیلئے چند اشعار پیش ہیں۔فرماتے ہیں۔مصطفى ہماں ز نوع بشر کامل از خدا باشد که با نشان نمایاں خدا نما باشد انسانوں میں وہی خدا کی طرف سے کامل ہوتا ہے جو روشن نشانوں کے ساتھ خدا نما ہوتا ہے بتابد از رُخ او نور عشق و صدق و وفا ز خلق أو كرم و غربت و حیا باشد اس کے چہرہ سے عشق اور صدق وصفا کا نور چمکتا ہے۔کرم۔انکسار اور حیا اس کے اخلاق ہوتے ہیں صفات او همه ظلِ صفاتِ حق باشند ہم استقامت او ہمچو انبیاء باشد اس کی ساری صفات خدا کی صفات کا پر تو ہوتی ہیں اور اس کا استقلال بھی انبیا کے استقلال کی مانند ہوتا ہے رواں بچشمه او بحر سرمدی باشد عیاں در آئینه اش روئے کبریا باشد اس کے سرچشمہ سے ابدی فیضان کا سمندر جاری ہوتا ہے اور راُس کے چہرہ میں خدائے بزرگ کا چہرہ نظر آتا ہے صعود أو ہمہ سوئے فلک بود ہردم وجود او ہمہ رحمت چو باشد اس کی پرواز ہر وقت آسمان کی طرف ہی ہوتی ہے۔اور اس کا وجود مصطفی کی طرح سراسر رحمت ہوتا ہے خبر دهد بقدومش خدا به مصحف پاک هم از رسول سلامے بصد شنا باشد خدا اس کی تشریف آوری کی خبر قرآن مجید میں دیتا ہے اور رسول کی طرف سے بھی سینکڑوں ثنا اور سلام بھیجے جاتے ہیں اس شعر میں حضرت اپنا کر فرمارہے ہیں کیونکہ آپ ہی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچانے کا کہا گیا تھا اور آپ ہی کا ذکر خدا تعالیٰ نے وَآخَرِينَ مِنْهُمُ کے فرمان میں کیا ہے۔دراصل یہ عقیدہ آپ ہی کے روحانی منصب کے بیان میں ہے۔نه تا بد از ره جانان خود سر اخلاص اگر چه سیل مصیبت بزور ها باشد وہ اپنے محبوب کی راہ میں کبھی اخلاص میں کمی نہیں آنے دیتا۔خواہ مصیبتوں کا سیلاب کتنے ہی زوروں پر ہو قصیدے کا دوسرا رکن گریز کہلاتا ہے۔یعنی اصل مقصد اور موضوع کی طرف رخ پھیرنا۔اس کے حسن و خوبی کو بھی ملاحظہ کریں۔