ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 114
ب المسيح منم مسیح زمان و منم کلیم خد 114 خدا منم محمد و احمد که مجتبی باشد میں ہی مسیح وقت ہوں اور میں ہی کلیم خدا ہوں۔میں ہی وہ محمد اور احمد ہوں جو حتمی ہے مرنج از سخنم ایکه سخت بے خبری که اینکه گفته ام از وحی کبریا باشد اے وہ شخص جو بالکل بے خبر ہے میری بات سے ناراض نہ ہو۔کہ جو میں نے کہا ہے یہ خدا کی وحی سے کہا ہے کیکه گم شده از خود بنورِ حق پیوست ہر آنچه از دهنش بشنوی بجا باشد ایسا شخص جو اپنی خودی کو چھوڑ کر خدا کے نور میں جاملا۔اس کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات حق ہوگی۔اور پھر آپ اپنی تعلیم اور امامت کو قبول کرنے کی تلقین میں فرماتے ہیں۔چو غنچه بود جہانے خموش و سربسته من آمدم بقدومی که از صبا باشد یہ جہاں ایک غنچہ کی طرح بند تھا میں (اس کے لیے ) ان برکتوں کو لے کر آیا ہوں جو بادصبالا یا کرتی ہے چه فتنه ها که بزا دست اندریں ایام کدام راه بدی کو در اختفا باشد اس زمانہ میں کس قدر فتنے پیدا ہو گئے ہیں اور کونسا راستہ بدی کا ہے جو مخفی ہے محال ہست کزیں فتنہ ہا شوی محفوظ مگر ترا چوبمن گام اقتدا باشد ناممکن ہے کہ تو ان فتنوں سے بچ سکے سوائے اس کے کہ تو میری پیروی کرے کسیکه سایه بال ہماش سُود نداد ببایدش که دو روزے بظل ما باشد وہ شخص جسے بال ہما نے بھی فائدہ نہ دیا ہو اسے چاہئیے کہ دو دن ہمارے زیر سایہ رہے مُسلّم است مرا از خدا حکومت عام که من مسیح خدایم که بر سما باشد خدا کی طرف سے میری حکومت ثابت ہو چکی ہے کیونکہ میں اُس خدا کا مسیح ہوں جو آسمان پر ہے قصیدے کا تیسرا رکن جس کو دعا کہتے ہیں اس کا بھی مشاہدہ کر لیں کیونکہ حضرت اقدس نے یہ قصیدہ اپنی بعثت کے اعلان کے لئے رقم فرمایا ہے۔اس لئے دعا بھی اس طور سے فرمائی ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف بلانے والے دعا گو ہیں اور بجز اعانت اسلام آپ کا دیگر مقصد نہیں ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ سے دعا کر کے میری صداقت کا ثبوت حاصل کرو اور آپ سے دشمنی اور عناد نہ رکھو۔فرماتے ہیں۔چه حاجتست که رنجے کشی بتالیفات که امتحان دعا گو ہم از دعا باشد کیا ضرورت ہے کہ تو کتا بیں تصنیف کرنے کی تکلیف اٹھائے کیونکہ دعا گو کا امتحان بھی دعا ہی کے ذریعہ سے ہوتا ہے