ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 111
111 ادب المسيح یہ تقابل قدرے طویل ہو گیا ہے مگر اس طوالت کا یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ فارسی شعر میں فردوسی۔سعدی اور حافظ کے سے منصب کے اساتذہ شعر کا آپ حضرت کے کلام سے موازنہ ہو گیا۔اور یہ حقیقت عیاں ہوگئی کہ آپ حضرت فارسی اسالیب ادب میں ان سب سے ارفع و اعلیٰ مقام رکھتے ہیں اور ان میں وہ چیز نہیں جس کو خدا تعالیٰ نے ” چیزے است“ کہا ہے ادبی اعتبار سے فارسی قصائد میں آپ حضرت نے جو معرکہ آرا اور عدیم المثال قصیده در معرفت انسانِ کامل مظہر حق تعالی کے عنوان سے رقم فرمایا ہے۔اس کی مثال فارسی ادب میں نہیں مل سکتی موضوع اور مدوح کے اعتبار سے بھی کسی صاحب شعر نے انسان کامل اور مرسلین باری تعالیٰ کے مناصب اور ان کی اوصاف کے بیان میں اس شان اور عظمت سے مدح سرائی نہیں کی۔اس نایابی کی حقیقی وجہ تو روحانی ہے۔یعنی یہ کہ ممدوح کی روحانی عظمت و شان کا عرفان اور شعور اُسی کو حاصل ہو سکتا ہے۔جس نے خدا تعالیٰ کا قرب پا کر وہ تمام صفات حاصل کی ہوں جو مقربین اور مرسلین کو عطا کی جاتی ہیں۔دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ مدحیہ قصائد کی خوبی اس میں ہے کہ جو کچھ کہا جائے وہ سچ ہو مگر قرب الہی اور محبت الہی کا صدق تو صرف مرسلین باری تعالی ہی بیان کر سکتے ہیں۔جن کا بیان مشاہدات ذاتی اور واردات قلبی کا اظہار ہوتا ہے اور برحق ہوتا ہے۔اسلوب بیان کے اعتبار سے قصیدے کی ایک خاص زبان ہے۔علامہ شبلی کے الفاظ میں ” بندش میں چستی الفاظ متین اور پریشان۔خیالات میں بلندی اور رفعت اس کی خصوصیات ہیں۔مزید کہتے ہیں کہ سنجیدہ اور متین خیالات کے ادا کرنے کے لیے قصیدے کا ہی اسلوب بیان موزوں ہوتا ہے۔ان تمام صفات لفظی اور معنوی کا خلاصہ یہ ہے کہ قصیدہ کا حسن و خوبی اور اس کی حقیقی شان۔الفاظ کے اعتبار سے ان کا پُر شوکت ہونا اور تراکیب میں حسنِ بیان ہونا ہے۔اور مواد کے اعتبار سے اگر قصیدہ مدحیہ ہے تو مدح و منقبت کا سچائی پر مبنی ہونا ہوتا ہے۔زیر نظر قصیدے میں تمام صفات بدرجہ اتم موجود ہیں اور جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ عدیم المثال ہیں۔اس حقیقت کو مزید روشن کرنے کے لیے ہم چاہتے ہیں کہ ہیئت کے اعتبار سے بھی اس کی عظمت و شان کو اقدار قصیدہ نگاری کے دستور کی روشنی میں اجاگر کریں۔جیسا کہ بیان ہوا ہے کہ قصیدہ کی صنف ادب کے چار ارکان ہیں اول رکن تشبیب ہے جو کہ محبوب کی صفات اور اس کے حسن و جمال کے بیان میں ہوتی ہے۔حضرت اقدس محبوب الہی اور مقربین باری تعالیٰ میں سے تھے اس لیے ان کا حسن و جمال روحانی ہی ہوسکتا ہے اس بیان میں حضرت اقدس کے پچاس سے زائد اشعار ہیں۔اور ایسے ہیں کہ اس مضمون میں کوئی شاعر یا