ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 110 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 110

المسيح 110 آپ حضرت اپنے منصب کے بیان میں فرماتے ہیں۔واللہ کہ ہمچو کشتی نوحم از کردگار بے دولت آنکه دور بماند دلنگر ترجمہ: بخدا میں اپنے پروردگار کی طرف سے نوح کی کشتی کی مانند ہوں۔بدقسمت ہے وہ جو میرے لنگر سے دُور رہتا ہے این آتشے کہ دامن آخر زماں بسوخت از بیر چاره اش بخدا نمبر کوثرم یہ آگ جس نے اس آخری زمانہ کا دامن جلا دیا ہے۔خدا کی قسم میں اس کے علاج کے لیے نہر کوثر ہوں اور آخر پر محبت الہی اور عشق رسول کے بیان کا مشادہ کریں۔حافظ کہتا ہے۔حافظ نے جاں محبت رسول است و آل آں بر این سخن گواه ست خدا وند اکبرم ترجمہ: حافظ اپنی جان سے رسول اور اُس کی آل سے محبت کرتا ہے۔میرے اس قول پر خداوندا کبر گواہ ہے اور آپ حضرت فرماتے ہیں۔بعد از خدا بعشق محمد محترم گر کفر این بود بخند اسخت کا فرم ترجمہ : خدا کے بعد میں محمد کے عشق میں سرشار ہوں اگر یہی کفر ہے تو بخدا میں سخت کافر ہوں۔حافظ نے ایک زمینی بادشاہ کی مدح میں قصیدہ کہا ہے اور حضرت اقدس نے ایک آسمانی بادشاہ کی عظمت و شان میں ( ابلاغ رسالت کی غرض سے ) مدح سرائی کی ہے۔مدیحہ قصائد ہونے کے اعتبار سے ان میں مکمل اتحاد ہے اور فنی اعتبار سے بر وقافیہ کے ہم صفت ہونے کا ذکر ہو چکا ہے۔مگر حافظ کے اشعار کے مقابلہ پر حضرت اقدس کے اشعار کا تقابلی موازنہ کریں تو صاف واضح ہو جائے گا کہ جس شعری نزاکت اور زبان اور بندش کا حسن و جمال حضرت کے کلام میں ہے۔وہ عناصر شعر حافظ کے کلام میں دستیاب نہیں۔اور مدروح کا اختلاف تو ایسا ہے کہ جیسے حضرت اقدس حافظ کی تادیب فرما رہے ہوں کہ اگر مدح و توصیف ہی کرنی ہے تو پھر بادشاہوں کی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ اور اس کے مرسلین کی کرو کہ اس کے حقیقی حقدار تو وہی ہیں۔