ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 90
المسيح 90 قصیدہ در اصل عربی ادب کا باوا آدم ہے۔ابتدا میں اسی صنفِ شعر میں تمام دیگر اصناف شعر کے موضوعات شامل ہوتے تھے۔جیسے کہ روایہ اس کا اول حصہ تشبیب کہلاتا تھا جس میں شاعر کے محبوب کا حسن و جمال اور اس کی محبت کا بیان ہوتا تھا جو کہ غزل کا موضوع ہے اور قصیدہ کے بطن میں ذاتی یا قومی تفاخر کا بیان ہوتا تھا، جس میں دیگر تمام اصناف شعر دستیاب ہو جاتے تھے۔جن کو بعد میں آنے والے ادیبوں نے مستقل اصناف کے طور پر اختیار کر لیا تھا یعنی مثنوی ، غزل ، رباعی اور مدح و تفاخر وغیرہ۔اس لیے اگر کہا جائے کہ مشرقی ادب کی بنیاد قصیدہ ہے تو بالکل بے جانہیں ہوگا۔تاہم اس حقیقت کو قبول کرنا ہوگا کہ قصیدے کے بطن سے جو دیگر اصناف شعر پیدا ہوئی ہیں وہ اپنی ارتقائی منازل کو طے کرنے کے بعد ایک مخصوص اور منفر داسلوب بیان کے حامل ہوگئی ہیں اور اپنی اپنی ایک منفردشان رکھتی ہیں۔چنانچہ مثنوی یا ابیات کا ہیئت اور موضوعات کے اعتبار سے غزل اور قصیدہ سے کوئی اتحاد نہیں ہے اور نتیجہ یہ تینوں بنیادی اصناف شعر اپنے اسلوب میں باہم دگر ممتاز اصناف شعر کی صورت اختیار کرگئی ہیں۔اسی حقیقت کی بنا پر ہم نے فیصلہ کیا کہ ان تین اصناف شعر میں حضرت اقدس اور دیگر اساتذہ شعر کو اس طور پر پیش کیا جائے تاکہ ان کے اسلوب شعر کی تعین بھی ہو جائے اور حضرت اقدس کا ان اقدار شعر کی پاسداری کرنا بھی ظاہر ہو جائے۔اس سے قبل کہ ہم ان اصناف شعر میں اساتذہ شعر فارسی اور حضرت اقدس کے کلام کو تقابلی موازنہ کے لیے پیش کریں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ گو ہم نے اس غرض کے لیے ابلاغ رسالت کا موضوع انتخاب کیا ہے مگر کیونکہ فارسی زبان بولنے والی اقوام میں ہندو سکھ اور عیسائی مذہب رکھنے والے باشندے نہیں ہیں اس لیے حضرت اقدس کے فارسی کلام میں ان سے خطاب نہیں کیا گیا تا ہم ” کا سر صلیب ہونے کے اعتبار سے عیسائیوں پر ابلاغ دستیاب ہے۔اور ایک دو مقامات میں ہندؤوں پر بھی ہے۔ان کی دہریت کی بنا پر۔دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ شعری تقابل کے تعلق میں اس امر کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوگا کہ ترجیحات شعری اور موضوعاتِ شعری سے صرف نظر کرتے ہوئے جائزہ لیا جائے کہ حضرت اقدس نے فارسی زبان کے اسالیب شعری کا کس حسن و خوبی سے التزام کیا ہے۔