ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 89
89 ادب المسيح شاعروں میں بجز شعر گوئی کوئی اور روحانی حقیقت نہیں ہوتی۔اسی وجہ سے حضرت اقدس کے اشعار کو دیگر شاعروں کے کلام سے ممتاز کرنے کے لیے آپ کو یہ الہام کیا در کلام تو چیزی است که شعراء را در آن دخلی نیست تیرے کلام میں ایک ایسی چیز ہے جو دیگر شعراء کو نصیب نہیں ہوئی مشاہدہ کریں کہ ” چیزے دگر ہست اور ” چیزے است“ میں کس قدراتحاد لفظی اور معنوی ہے۔بات یہ ہو رہی تھی کہ اسلامی ادب شعر میں کوئی بھی ایسا شاعر نہیں جس نے بر ملا اور بے نقاب ہو کر عاشق الہی ہونے کا اعلان کیا ہو۔شعر میں یہ ممتاز منصب افتخار صرف اور صرف حضرت اقدس کے اشعار کو نصیب ہوا ہے۔جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی عطاء خاص کے طور پر بیان بھی کر دیا ہے۔مثال کے طور پر آپ کی مناجات کے یہ چند اشعار ہی کافی ہیں۔راہم اے خداوند من گنا ہم بخش سوئے درگاه خویش را هم بخش اے میرے خدا میرے گناہ بخش دے دے۔اپنی بارگاہ تک میری رہنمائی کر روشنی بخش در دل و جانم پاک گن از گناه پنهانم میرے دل و جان میں روشنی کردے اور پوشیدہ گناہ سے مجھے پاک کردے دلستانی و دلربائی کن نگا ہے گرہ کشائی گن اپنے حُسن سے میرے دل کو چھین لے۔ایک نظر سے میری مشکل کشائی کردے و عالم مرا عزیز توئی و آنچه می خواهم از تو نیز توئی دونوں جہانوں میں تو ہی میرا پیارا ہے۔اور جو چیز میں تجھ سے مانگتا ہوں وہ بھی تو ہی ہے مناجات اور عشق الہی کے عنوان میں ایسا کلام کہاں ملے گا۔یہی وہ عنصر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے "چیز" کہا ہے۔یہاں تک تو فارسی شاعری پر ایک طائرانہ نظر ہے اور فارسی شعر میں آپ حضرت کی منفرد اور ممتازشان کو بیان در دو کیا گیا ہے۔اب وقت آیا ہے کہ یہ بیان کرنے کی کوشش کی جائے کہ فارسی شعر میں اساتذہ فرن شعر جن کی پیمبرانہ ادبی شان گذشتہ میں رقم ہوئی ہے۔ان کے اسلوب بیان اور پسندیدہ اصناف شعر کا کچھ ذکر ہو۔اس حقیقت سے تو کسی صاحب نظر ادیب کو اختلاف نہیں ہوگا کہ مشرقی ادب، یعنی اُردو، فارسی اور عربی میں بنیادی اور حقیقی اصناف ادب ابیات اور قصیدہ اور غزل ہی ہیں۔گواگر ان زبانوں کی شعری تاریخ پر نظر کی جائے تو حقیقت میں قصیدہ ہی ایک ایسی صنف ادب ہے۔جس کے بطن سے دیگر اصناف شعر رونما ہوئی ہیں۔