ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 91
91 ابیات ادب المسيح گذشتہ میں بیان شدہ اصناف شعر کی ترتیب کے مطابق ہم ابیات یعنی مثنوی کی صنف کو اول بیان کرتے ہیں۔ابیات دراصل مثنوی کا ہی دوسرا نام ہے۔اس طرز کلام میں ہر شعر اپنی بحر اور وزن کے اتحاد کے باوجود اپنا جداگانہ قافیہ رکھتا ہے۔اس لیے ان کو ابیات کا نام دیا گیا۔مثنوی کے موضوعات تاریخی واقعات اور روایتی حکایات کے ساتھ اخلاقی اور صوفیانہ درس و تدریس بھی ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مثنوی رزمیہ (یعنی قومی جنگ و جدل کا ذکر) بھی ہوتی ہے اور عشق ومحبت کی داستانوں کے ساتھ صوفیانہ خیالات کے بیان کے لیے بھی اختیار کی جاتی ہے۔فر دوستی کی مثنوی رزمیہ ہے۔شاہنامہ فردوسی کے نام سے مشہور عام ہے اور خالص زبان فارسی یعنی زبان پہلوی کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔اس کے مضامین شاہانِ ایران کی تاریخ، جنگ و جدال اور روایتی قومی حکایات ہیں۔دوسری مشہور عالم اور عظیم مثنوی جو مثنوی رومی کے نام سے معروف ہے۔منازل سلوک اور دیگر صوفیانہ پر مشتمل ہے۔میرے خیال میں فارسی شاعری میں ابوسعید ابوالخیر کے بعد رومی اور سنائی ہی دو ایسے شاعر ہیں جو مجاز سے صرف نظر کرتے ہوئے منازل سلوک اور محبت الہی کو بیان کرتے ہیں اور اُن کے حصول کا درس مضامین پر دیتے ہیں۔جیسا کہ کہا گیا ہے کہ مثنوی واقعات کے بیان اور درس و تدریس کی صنف شعر ہے۔اس لیے اسلوب بیان کے اعتبار سے اس کی فنی اقدار میں ترتیب بیان اور واردات ذہنی اور قلبی کو سلاست اور وضاحت سے بیان کرنا بنیادی اقدارین ہیں اور یہی دو صفات ہیں جن کی بنا پر فردوسی اور رومی کی مثنویوں کو شاہکار اور لا جواب سمجھا جاتا ہے۔فر دوستی کے اشعار کو نمونہ کے طور پر پیش کرنے میں یہ مشکل تھی کہ اس کے موضوعات شعر حضرت اقدس کے موضوعات شعر سے یکسر مختلف ہیں تاہم تلاش بسیار کے بعد شاہ نامہ میں ایک ایسا بیان مل گیا ہے جو حضرت اقدس کا بھی دل پسند مضمون ہے یعنی شناء باری تعالیٰ۔فردوسی کہتا ہے: خداوند نام و خداوند جائے خداوند روزی ده رہنمائے ز نام و نشان و گمان برترست خدا اس کا نام ہے اور مالک کل اس کا منصب ہے روزی دینے اور راہنمائی کرنے کا مالک ہے نگارنده بر شده گوهر ست وہ نام ونشان اور قیاس ނ بالاتر ہے وہ قیمتی موتیوں کو پیدا کرنے والا ہے