آداب حیات

by Other Authors

Page 197 of 287

آداب حیات — Page 197

196 سھل بن سنڈ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اذن مانگنا اس لئے ہے تا نا محرم پر نظر نہ پڑے سلم کتاب الاداب باب تحریم النظر فی بیت غیر م ) ۵- اگر گھر والے کہیں باہر گئے ہوں۔تو باہر ہی ان کی واپسی کا انتظار کرنا چاہیئے۔کیونکہ ان کی اجازت کے بغیر گھر میں داخل ہونا معیوب ہے اور اسلام نے اس سے روکا ہے۔قرآنی ارشاد ہے۔فَإِن لم تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّى يُونَنَ لَكُمُ (سورة النور : (۲۹) اور اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ تب بھی ان میں داخل نہ ہو جب تک کہ تم ہمیں گھر والوں کی طرف سے اجازت نہ مل گئی ہو۔۔جب کسی کے گھر ملاقات کے لئے جائیں تو عین دروازہ کے سامنے نہ کھڑے چوں بلکہ دروازہ کے ایک طرف کھڑے ہو کر اسلام علیکم کہ کر اذن طلب کریں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ آپ جب کسی کے گھر جاتے تعمیر دروازہ کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے اور اسلام علیکم کہ کر اذن طلب فرماتے۔ابوداود کتاب الادب باب كم مرة يسلم الرجل في الاستيدان) اگر کسی کے گھر طاقات کے لئے جائیں تو مر وازہ کو زور زور سے نہ کھٹکٹا ہو اورنہ گھنٹی بجاتے چلے جائیں بلکہ وقفہ وقفہ سے تین بار اسلام علیکم کہ کر اجازت طلب کریں۔حضرت ابو ولی الاشعری سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی الہ علیہ دوست نے فرمایا۔اذن مانگنا تین بار ہے۔اگر اذن دیا گیا تو فیھا ورنہ واپس لوٹ جاؤ۔( مسلم و نجاری