آداب حیات

by Other Authors

Page 198 of 287

آداب حیات — Page 198

حدیث میں آتا ہے۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ کے گھر تشریف لائے اور باہر کھڑے ہو کر اذن طلبی کے لئے السلام علیکم ورحمہ اللہ کہا۔سعد نے اس طرح آہستہ سلام کا جواب دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں سنا حضرت سعد کے فرزند قیس بن سعد نے کہا۔آپ رسول اللہ کو اندر آنے کی اجازت کیوں نہیں دیتے۔حضرت سعد نے کہا۔چپ رہو۔رسول اللہ بار بار سلام کریں گے جو ہمارے لئے برکت کا سبب ہو گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اسلام علیکم کہا ادر سعد نے پھر اسی طرح جواب دیا۔آنحضرت نے تیسری دفعہ پھر اسی طریقہ سے اذن طلب کیا۔اور جب کوئی جواب نہ ملا تو آپ واپس چلے۔حضرت سعد نے جب آپ کو واپس جاتے دیکھا تو دوڑ کر گئے اور عرض کی کہ میں آپ کا سلام سن رہا تھا لیکن آہستہ جواب دینا منھا کہ آپ بار بار سلام فرمائیں۔را ابو داؤد کتاب الادب باب كم مرة يسلم الرجل في الاستيذان) - اگر گھر والے ملاقات نہ کرنا چاہیں تو بغیر بُرا منائے واپس لوٹ آنا چاہیئے۔جیسا کہ سورۃ النور میں آتا ہے۔مان قيل لكم الى جعُوا فَارَجِعُوا هُوَ ان كى لكم والله بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ۔(سورۃ النور آیت نمبر ۲۹) اور اگر تمہیں کہا جائے کہ اس وقت چلے جاؤ تو تم چلے آؤ۔یہ تمہارے لئے " زیادہ پاکیزہ ہوگا۔اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب جانتا ہے۔صحابہ کرام کے اندر احکام شریعیت پر عمل کرنے اور نیکیاں حاصل کرنے کا اس قدر جوش پایا جاتا تھا کہ حضرت عمر بن الخطاب فرماتے ہیں کہ مجھے سالہا سال خواہش رہی کہ میں کسی کے ہاں جاؤں اور وہ مجھے کہے کہ واپس چلے جاؤ تا کہ ھو از کی لکھ کے ماتحت میں ثواب حاصل کر سکوں مگر مجھے کبھی ایسا موقع نہیں ملا۔رفتح البلدان جلد ت۔