آداب حیات — Page 196
194 ہے۔اور تیرا چلنا پھرنا بھی مرغوب ہے۔تو نے جنت میں اپنا گھر بنا دیا رتمندی ابواب البر والصلة باب ماجاء في زيارة الاخوان) حضرت رسول کریم اپنے صحابہ کرام کے گھروں میں ملاقات کے لئے جایا کرتے تھے۔حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ آنحضرت ہم سے ملتے جلتے رہتے تھے۔یہاں تک کہ میرے ایک چھوٹے بھائی سے فرماتے کہ اسے ابو عمیر تغیر کو کیا ہوا۔بخاری کتاب الادب باب الانسباط الى الناس) - فیض لوگ باطنی کی طرف جلد مائل ہو جاتے ہیں۔اس لئے اسلام نے حکم دیا ہے کہ اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں ملاقات کے لئے بغیر اجازت اور سلام کے داخل نہ ہوا جائے جیسا کہ سورۃ النور میں آتا ہے۔بايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُونَكُمْ حَتَّى نَسَانو وَسَامُوا عَلَى أَهْلِهَا ذَلِكُمْ خَيْر لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ 0 (سورة النور : ۲۸) ترجمہ : اے مومنو! اپنے گھروں کے سوا دور سے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک اجازت نہ لے لو۔اور داخل ہونے سے پہلے ان گھروں میں بسنے والوں کو سلام کرو۔یہ تمہارے لئے اچھا ہوگا تاکہ تم نصیحت حاصل کرد۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم حب خود کسی سے ملنے جاتے تو اسی طرح اجازت انگتے اور کوئی شخص اس طریقہ کے خلاف کرتا تو اسے واپس کر دیتے۔ایک دفعہ صفوان بن امیہ نے جو قریش کے رئیس تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بھائی کلدہ کے ہاتھ ، دودھ، ہرن کا بچہ اور لکڑیاں بھیجیں۔کلدہ یوں ہی بے اجازت چلے آئے۔آپ نے فرمایا واپس جاؤ اور سلام کر کے اندر آؤ۔(ابو داؤ د کتاب الادب في الاستيذان)