آداب حیات

by Other Authors

Page 195 of 287

آداب حیات — Page 195

۱۹۵ کر خوشی اور راحت حاصل ہوتی ہے۔کشادہ چہرہ کے ساتھ پیش آنا نیکی ہے۔حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔لا تحجرنَ مِنَ المعروف شياً وَدَوَان تَلقَى أَخَاكَ يوجه طليق (مسلم کتاب البر والصلة والادب باب استحباب طلاقة الوجه عند اللقاء) کہ تم معمولی نیب کی کو بھی حقیر نہ سمجھو۔اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے پیش آنا بھی نیکی ہے۔حضرت علی آنحضرت کے اخلاق کے متعلق فرماتے تھے کہ آپ خندہ جبیں ، نرم خو اور مہربان طبع تھے ر شمائل ترمذی باب ما جاء في خلق رسول الله) خدا تعالیٰ کی محبت اور رضا حاصل کرنے کے لئے ایک دورکر سے ملاقات کرنی چاہیئے اور انس و محبت سے پیش آنا چاہیئے۔کیونکہ خدا تعالیٰ ایسے اشخاص کو اپنا دوست رکھتا ہے جو اس کے حلال و محبت کی خاطر آپس میں میل جول رکھتے ہیں لانو اری سے روایت ہے۔دمشق کی مسجد میں معاذ بن جبل سے میں نے کہا۔میں آپ سے محبت محض اللہ کے لئے رکھتا ہوں۔معاذ نے کہا۔کیا خاص اللہ کے لئے ؟ میں نے کہا۔ہاں۔پھر کہا۔کیا خاص اللہ کے لئے۔میں نے کہا ہاں۔تب انہوں نے میری چادر کا کونہ پکڑ کر کھینچا اور فرمایا۔خوش ہو جاؤ کہ میں نے رسول کریم سے منا الله تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ میری محبت واجب ہوئی ان لوگوں سے جو محض میرے لئے باہم محبت رکھتے ہیں اور محض میرے لئے مل کر بیٹھتے ہیں محض میرے لئے ایک دوک کی ملاقات کو جاتے اور محض میرے لیئے اپنا جان و مال خرچ کرتے ہیں)۔(موطا كتاب الجامع باب ما جاء في المتحابين في الله ) حدیث میں آتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بھائی کے پاس ملاقات کے لئے اللہ کی خوشنودی کی خاطر جاتا ہے تو ایک آواز دینے والا اُ سے آواز دنیا ہے کہ تو بھی مرغوب