آداب حیات — Page 135
۱۳۵ میں فرماتا ہے۔وقل لعِبَادِي يَقُولُوا لَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَنَ يَنزَ بَيْنَهُمُ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيناه (سورۃ بنی اسرائیل : ۵۴) اور تو میرے بندوں سے کہہ دے کہ وہ دہی بات کیا کریں جو سب سے زیادہ اچھی ہو۔کیونکہ شیطان ان کے درمیان فساد ڈالتا ہے۔شیطان انسان کا کھلا کھلا مین ہے پاکیزہ کلام خدا کے ہاں مقبول اور پسندیدہ ہے جیسا کہ اللہ سورۃ الفاطر میں فرمانا ہے۔إِلَيْهِ يَصْعَدُ الكَلِمُ الطَّيِّبُ (سورة الفاطر: 11) پاک کلمات اس کی طرف چڑھ کر جاتے ہیں - تکلف اور تصنع کے بغیر گفتگو کرنی چاہیئے اور نہ ہی زبان کو موڑ کر گفتگو کرنی چاہیئے۔یہود کا یہ طریق تھا کہ وہ اپنی زبان کو بیچ دے کے اور لفظ کو بگاڑ کر گفتگو کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی اس شرارت کا ذکر سورہ نساء آیت ۷ہم میں فرمایا ہے مِنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَيَقُولُونَ سمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَتَرَاعِنَا لَيَّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَ طعنا في الدين (سورة النساء ) طَعْنَّا یعنی یہودیوں میں سے بعض لوگ اللہ تعالیٰ کی باتوں کو ان کی جگہوں سے ادھر اُدھر بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور کہتے ہیں۔ہماری باتیں سن تجھے خدا کا کلام کبھی نہ سنایا جائے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ را عنا یعنی ہمارا لحاظ کر۔مگر یہ بات اپنی زبانوں کو پینچ دیتے ہوئے اور دین میں طعن کرتے ہوئے کہتے ہیں۔