آداب حیات

by Other Authors

Page 134 of 287

آداب حیات — Page 134

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو نہایت شیریں اور دل آویز ہوتی تھی۔آپ بہت ٹھہر ٹھہر کر گفتگو فرماتے تھے اور جب کسی بات پر زور دنیا ہوتا تو آپ اُسے دو تین بار دہراتے تاکہ سُننے والوں کو یاد ہو جائے۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ایا کھلا کھل ہوتا کہ جو سُنتا سمجھ لینا۔ر ابو داؤد کتاب الادب باب الهدى في الكلام ) حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کلام کیا کرتے تو ایک کلمہ کو تین تین بارا عادہ فرماتے تاکہ خوب ذہن نشین ہو جائے اور جب کسی قوم کے پاس تشریف لاتے تو تین بار سلام کہتے د بخاری کتاب الاستیذان باب التسليم والاستيدان ثلاثة) پاکیزہ گفتگو کرنی چاہیے۔کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ پاکیزہ کلمہ بھی صدقہ ہے۔(اور آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بھی ہے۔) استخاری کتاب الادب باب طیب الکلام ) عدی بن حاتم سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آگ سے بچاؤ کر لو۔اگر چہ چھوہارے کا ٹکر خرچ کرنے سے ہو سکے۔اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو پاکیزہ کلامی ہی سہی۔ر مسلم کتاب الزكوة باب الحث على الصدقة وانواعها وانها حجاب من النار ركل نوع من المعروف صدقة الله عمدہ اور پاکیزہ بات کہنا خدا تعالیٰ کا حکم ہے جیسا کہ وہ سورۃ بنی اسرائیل لے انڈیکس میں کل نوع من المعروف صدقہ کا ذکر ہے اور اصل باپ کا حدیث والے صفحہ پر ذکر ہے۔