آداب حیات

by Other Authors

Page 136 of 287

آداب حیات — Page 136

حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہود سے یہ عہد لیا تھا کہ وَقُولُو الِلنَّاسِ حُسناً (سورة البقره : ۸۴) کہ تم لوگوں کے ساتھ ملاطفت کے ساتھ کلام کیا کرو۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالی لوگوں میں سے اس شخص کو برا جانتا ہے جو اپنی زبان کو کلام کرتے ہوئے پہنچ دے جیسے گائے زبان کو پریچی دیتی ہے۔را بو داد د کتاب الادب باب في التشدق في الكلام ) آپ نے فرمایا جو لوگ گفتگو کے وقت زبان کو مروڑ مروڑ کر باتیں کرتے ہیں قیامت کے دن ایسے لوگ مجھ سے دُور رہیں گے۔( ترمذی ابواب البر والصلة باب ما جاء في معالى الاخلاق) - گفتگو میں مبالغہ سے کام نہیں لینا چاہیئے۔لیا حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مبالغہ سے تکلف کرنے والے ہلاک ہوئے۔آپ نے یہ تین بار فرمایا ر مسلم کتاب العلم باب هلك المتنطمون) بے ہودہ بکواس اور فحش کلامی نہیں کرنی چاہیئے۔حضرت عبدالل من عمر ا نے آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ نہ تو آپ فاحش تھے اور نہ قصداً فحش گوئی کرتے تھے۔دبخاری کتاب الادب باب لم يكن البنى فاحشاً ولا متفحشا) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔جب آپ نے اس کو دیکھا تو فرمایا کہ قبیلے کا بڑا بھائی یا بیٹا ہے۔جب وہ بیٹھ گیا تو آپ خندہ پیشانی اور کشادہ روٹی سے ملے۔جب وہ چلا گیا تو