آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 94 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 94

185 184۔کم بخت مارفیا یا افیم کا نشہ سب نشوں سے زیادہ ظالم ہے۔موجود، غرض یہ کہ دو تین دن متواتر یہی عمل ہوتا رہا۔پھر آرام آ گیا۔کچھ دن بعد پھر گردہ کا درد ہوا اور اسی طرح ہر دس پندرہ روز کے بعد ہوتا رہا اور ساتھ ایک تو روزانہ استعمال کے سوا چارہ نہیں، دوسرے یہ کہ مقدار مسلسل بڑھانی ہی مارفیا سے آرام بھی آتا رہا۔چند ماہ کے ایسے علاج کے بعد مجھے اس دوا کی پڑتی ہے۔تیسرے یہ کہ خصوصاً دماغ کو تو فسانہ آزاد کے خوجی کی طرح خراب عادت پڑ گئی، اور بجائے ایک ٹکیہ مارفیا کے دو ٹکیوں کا بیک وقت انجکشن کرانا کر دیتی ہے۔اس کا نظارہ میں نے جیل خانوں میں دیکھا ہے۔میرے خیال پڑتا تھا۔اس بات کو کئی سال ہو گئے مگر اب یہ حال ہے کہ ساری ٹیوب جس میں ہندوستان میں اس نشہ کا اب بھی بے حد رواج ہے اور جب جیل میں میں مارفیا کی بیس ٹکیاں ہوتی ہیں صبح کو اور ایک پوری ٹیوب میں ٹکیوں کی اس داخل ہو کر عادی لوگوں کو نہیں ملتا تو اُن کی حالت دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔وقت شام کو انجکشن کراتا ہوں تو زندہ رہ سکتا ہوں ورنہ کھانسی اور بلغم سے ہر بیچارے زمین پر مچھلی کی طرح تڑپتے اور لوٹتے پھرتے ہیں۔آنکھ، ناک اور پانچ پانچ منٹ بعد یہ اگالدان بھر جاتا ہے، میں نے کہا مارفیا تو افیم کا ست مُنہ سے پانی جاری ہو جاتا ہے۔پنڈلیوں سے پنڈلیاں اس طرح رگڑتے ہیں ہے اس کا ملنا مشکل ہے۔خصوصاً آپ کے لئے جو ڈاکٹر نہیں ہیں اور پھر اس جس طرح جان کندنی کے وقت مرنے والوں کی حالت ہوتی ہے۔کثرت سے کہ ایک سال میں 700 نلکیوں کا خرچ ہے؟ فرمانے لگے ”اس ایک جوان شخص قریباً چھپیس (25) سال کی عمر کا میرے پاس آیا اور کی ہمیں فکر نہیں، فلاں دوا فروش ہمارا ٹھیکہ دار ہے۔خدا اُسے سلامت رکھے کہنے لگا کہ ” میں چھ سات سال سے افیون کا عادی ہوں اور مپیٹیشن (مقابلہ ) وہی مہیا کرتا ہے اور گو ایک روپیہ کے پانچ روپے لیتا ہے مگر دوا میں کمی نہیں کرتے کرتے اب چھ ماشہ افیون روزانہ کھایا کرتا ہوں“ میں نے پوچھا ”کس آنے دیتا اور ہماری زندگی بھی چونکہ اس دوا سے وابستہ ہے اور خدا نے ہمیں لئے شروع کی تھی؟" کہنے لگا عیاشی کے لئے کیونکہ اس سے بڑھ کر مسک بہت کچھ دے رکھا ہے اس لئے ہم کو بھی پرواہ نہیں ہے وہ پیر صاحب بڑھے اور کوئی چیز نہیں۔اب پچیس سال کی عمر ہے۔اس نشہ نے قوت باہ تو قطعاً فنا آدمی نہ تھے، یہی کوئی چالیس بیالیس سال کے ہوں گے۔مجھے اُن کی بے کسی کر دی مگر عادت نشہ کی برابر بڑھتی چلی گئی، میں نے کہا ”ایسی عیاشی کی کیا اور نشہ کی غلامی پر ترس آیا۔ایک منشی صرف اسی بات پر اُنہوں نے نوکر رکھا ہوا ضرورت تھی؟ کہنے لگا ”بازاری عیاشی کے سرکل میں نوجوانی کی عمر میں ہی تھا کہ صبح شام پچکاری اور سُوئی اُبال کر ڈاکٹروں کی طرح پوری احتیاط سے ٹیکہ داخل ہو گیا تھا، وہاں رقیبوں سے مقابلہ در پیش رہا تھا، اس لئے کھانی شروع کی لگائے اور دوا کی مقدار میں کمی نہ آنے دے۔خیر اُن کا ہمارا ساتھ لاہور تک تھی۔اب یا تو چند ماہ تک اسے چھڑا دیجئے ورنہ چلتی ٹرین کے نیچے ہمارا ٹھکانہ رہا، وہاں سے وہ اپنے گھر چلے گئے۔چند سال کے بعد میں نے اس شہر کے بعض لوگوں سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اُن کا انتقال ہو چکا ہے۔نشہ کی مقدار بڑھتی گئی اور اُن کے گردے، جگر اور دل خراب ہوتے گئے، آخر وہ بیچارے فوت ہو گئے۔۔ہے۔(106) پیسہ پانی پت میں میری میل ملاقات مولانا حالی کے خاندان کے لوگوں