آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 95 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 95

187 186 صورت کنجر تھا۔جب اُس سے کوئی ناواقف پوچھتا کہ ”آپ کے والد کا نام کیا ہے؟ تو وہ اپنی جیب میں سے ایک روپیہ نکال کر دکھا دیا کرتا تھا، یعنی میرا ~ (107) دعوئی اور چیز ہے اور حقیقت اور چیز سے ہو گئی۔ایک دن اس خاندان کے ایک گریجویٹ خواجہ غلام السبطین میرے پاس تشریف لائے اور یہ تازہ بتازہ قصہ مجھے سُنایا کہ ”میری ایک بھیجی ہے کوئی پندرہ سال کی سیدہ اُس کا نام ہے۔چند دن ہوئے اُس کے دل میں خیال باپ روپیہ ہے۔پیدا ہوا کہ ہمارے محلہ کی لڑکیاں بالکل جاہل اور ان پڑھ ہیں مناسب ہے کہ میں اُن کے لئے ایک اسکول اپنے گھر میں ہی کھول دوں۔چنانچہ اُس نے اسکول کھول کر سارے محلہ کی عورتوں کو کہلا بھیجا کہ ” جسے اپنی لڑکی پڑھوائی ہو وہ ایک میرے رشتہ دار بزرگ تھے وہ ظاہر حصہ مذہب کے بہت پابند ہمارے ہاں اُسے بھیج دیا کرے اس طرح پندرہ ہیں لڑکیاں میری بھتیجی کے تھے۔جب بھی اُن سے کبھی ذکر آتا کہ دُنیا کی اخلاقی اور روحانی حالت بہت پاس آ کر پڑھنے لگیں۔آج اُسے خیال آیا کہ مناسب ہو گا کہ سب لڑکیوں خراب ہو گئی ہے اور وہ ایک حقیقی مصلح کی محتاج ہے تو فرمایا کرتے کہ ہاں اور کے نام معہ اُن کی ولدیت و عمر وغیرہ ایک رجسٹر میں درج کر لوں۔چنانچہ ایسا لوگ شاید محتاج ہوں مگر ہم تو نہیں ہیں، ہم تو پچاس سال سے باقاعدہ نماز کیا گیا۔لکھتے لکھتے ایک لڑکی سے جب اُس نے پوچھا کہ ” تمہارا نام کیا ہے؟ پڑھتے ہیں۔رمضان کے روزے رکھتے ہیں بلکہ نفلی بھی، تہجد پڑھتے ہیں۔پچھلی تو وہ کہنے لگی اختر " پھر پوچھا کہ تمہارے باپ کا نام کیا ہے؟“ کہنے لگی پیسہ ” رات سے ذکر شروع کرتے ہیں تو محلہ والے بھی بیدار ہو جاتے ہیں۔حزب اس پر میری بھیجی بہت حیران ہوئی اور بار بار پوچھا مگر یہی جواب پایا کہ البحر کئی لاکھ دفعہ پڑھ چکے ہیں۔دُعائے گنج العرش کا لفظ لفظ حفظ ہے، کسی سے میرے باپ کا نام پیسہ ہے، پھر تو میری بھتیجی بہت متعجب ہوئی اور مجھ سے کہنے بُرائی نہیں کرتے۔کوئی عیب ہم میں نہیں، لوگوں کی خیر خواہی اور خدمت میں لگی’ چچا! یہ لڑکی کہتی ہے کہ میرے باپ کا نام پیسہ ہے اس پر میں نے اُس لگے رہتے ہیں۔بھلا ہمیں کسی مصلح کی کیا ضرورت ہے۔“ لڑکی سے پوچھا تو مجھے بھی اُس نے یہی جواب دیا۔آخر میں میں نے لڑکی چونکہ صوبہ بہار کی طرف ہمارے کنبہ کو بعض گاؤں بطور معافی ملے سے اُس کے مکان کا پتہ پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ تو منی طوائف کی لڑکی ہے۔ہوئے تھے اس لئے ان بزرگ کو ہم نے اپنا مختار بھی بنا رکھا تھا۔ایک سال اس وقت خیال آیا کہ غالباً ایسی عورتیں اپنی اولاد کو یہ بتاتی ہوں گی کہ ”جب ہماری غفلت اور گاؤں والوں کی شکایت کی وجہ سے وہ گاؤں نیلامی پر چڑھ کوئی تمہارے باپ کا نام پوچھے تو تم کہہ دینا کہ ہمارے باپ کا نام پیسہ ہے“ گئے۔بیچارے بزرگ دوڑے اور بڑی کوشش سے دیہات کو واگزار کرایا۔غرض میں نے اپنی بھتیجی سے کہہ دیا کہ تم اس لڑکی کی ماں کا نام بجائے اس مقدمات ہوئے۔گواہیاں پیش ہوئیں تو اُن کو بہت سے گواہ فرضی کھڑے کے باپ کے نام کے لکھ لو اور میں آپ کو یہ لطیفہ سنانے کے لئے شفاخانہ کی کرنے پڑے۔کئی آدمیوں سے غلط اور جھوٹی گواہیاں دلوانی پڑیں، اور بہت کی ناجائز باتیں کرنی پڑیں۔جب فتحیاب ہو کر واپس آئے تو فخریہ بیان کرنے لگے کہ ”میں نے زمینیں واگزار کرانے کے لئے ان ان فریبوں اور طرف چلا آیا۔“ یہ قصہ سُن کر میں نے بھی اُن کو ایک ذکر سُنایا کہ ایک بڑا شریف