آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 93
183 182 اور قمیص پارہ پارہ ہے۔بیچارے براتی یہ نظارہ دیکھ کر رونے لگے اور پولیس تو وہ خاصے تندرست بھلے چنگے بیٹھے باتیں کرتے رہے مگر شام کے قریب والے کے آگے ہاتھ جوڑنے لگے کہ یہ نا تجربہ کار ہے اسے چھوڑ دو مگر اُس یکدم اُن کے ملازم نے ایک بڑا سا اُگالدان اُن کے سامنے لا کر رکھ دیا اور نے یہی کہا اور سچ کہا کہ ”میرا کیا اختیار، تم تھانہ میں چل کر داروغہ جی سے کہو، اُنہوں نے کھانسنا شروع کیا۔کھانسی اور قے میں اس قدر بلغم نکلا کہ وہ مجرم سنگیں ہے شاید وہ مجسٹریٹ سے کہہ کر ضمانت کرا دیں۔“ اُگالدان دس منٹ میں بھر گیا۔میں حیران تھا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔اتنے میں غرض وہ لوگ شفاخانہ سے تھانہ اور تھانہ سے کچہری گئے جہاں بالآخر اگلے اسٹیشن پر اُن کا منشی دوسرے ڈبہ میں سے آ کر ہماری گاڑی کے ہاتھ روم وہ بیچارہ ضمانت پر رہا ہو گیا مگر جب تک مقدمہ کی پیشیاں ہوتی رہیں اُن لوگوں (غسل خانہ) میں گھس گیا اور یہ کہتا گیا کہ پیر صاحب ابھی لاتا ہوں“ پھر پر سخت مصیبت کے دن رہے۔نہ وہ دُلہن والوں کے ہاں جا سکے، نہ بیاہ ہی غسل خانہ کا دروازہ اس نے بند کر لیا اور اندر کسی کام میں مصروف ہو گیا۔ہو سکا بلکہ ساری باتیں شادی کی ملتوی رہ گئیں۔اُس سے آگے مجھے معلوم نہیں تھوڑی دیر میں دروازہ کھلا تو منشی کے ہاتھ میں میں نے ایک زیر جلد ٹیکہ کہ اُسے سزا ملی یا حکام نے رحم کر کے چھوڑ دیا اور دُلہن والوں نے ایک مجرم کو لگانے والی پچکاری (یعنی ہائی پوڈ میک سرنج) دوا سے بھری ہوئی دیکھی۔وہ لڑکی دینی منظور کی یا رشتہ توڑ دیا۔بہرحال یہ ایک تقدیری آفت تھی کہ کیا سوچ پچکاری ٹیکہ کی اُس نے پیر صاحب کے بازو میں انجکشن کر دی۔اُس وقت مجھے کر وہ لوگ گھر سے نکلے تھے اور کیا ہو گیا۔انسان اپنی طرف سے ایک اندازہ معلوم ہوا کہ منشی صاحب غسل خانہ میں ٹیکہ تیار کر رہے تھے۔ٹیکے کے پانچ کرتا ہے مگر تقدیر اُس کے مخالف ہوتی ہے۔حضرت علی کا یہ کہنا بالکل سچ ہے۔منٹ بعد پیر صاحب کی کھانسی، بلغم اور قے سب بند ہو گئے اور وہ پھر پہلے کی عَرَفتُ رَبِّي بِفَسْخِ الْعَزَائِمِ یعنی میں نے خدا کی ہستی کو اس بات سے طرح چہکنے لگے۔میں سمجھ گیا کہ پیر صاحب کو مارفیا کی عادت ہے۔جب اُس پہچانا کہ بندہ کچھ کرنا چاہتا ہے اور ساری عقل اور سارے انتظام کے ساتھ ایک کا وقت آیا اور نشہ ٹوٹنے لگا تو کھانسی اور کے شروع ہو گئی۔اب اُن کو ٹیکہ لگ بات کو کرنے لگتا ہے اور بظاہر کوئی روک بھی اُس امر کے پورا ہونے میں نظر نہیں گیا ہے، رات آرام سے کٹ جائے گی۔آتی لیکن یکدم سب کئے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے اور خدائی تقدیر غالب آجاتی خیر جب اُن کی طبیعت ذرا بشاش ہوئی تو میں نے کہا ” پیر صاحب! ہے جیسا کہ اس واقعہ سے ظاہر ہے۔میں بھی ڈاکٹر ہوں، آپ نے کسی تکلیف کے لئے مارفیا کا ٹیکہ لگوایا ہے؟“ (105) افیونی فرمانے لگے ڈاکٹر صاحب! میں فلاں گدی کا پیر ہوں جو سارے پنجاب میں معزز اور عالیشان سمجھی جاتی ہے۔اتفاقاً ایک دفعہ مجھے گردہ کا درد اُٹھا۔اور سخت اُٹھا۔مقامی ڈاکٹر کو بلایا۔اُس نے کئی علاج کئے مگر فائدہ نہ ہوا بلکہ درد بڑھتا ہی گیا۔آخر مجبور ہو کر اُس نے مارفیا کی ایک ٹکیہ کا ٹیکہ مجھے کر دیا۔مجھے جادو کی طرح اس ٹیکہ سے درد کو آرام آ گیا۔مگر دوسرے دن نشہ اتر نے پر پھر درد پندرہ سولہ سال کا ذکر ہے کہ میں ایک دفعہ دہلی سے لاہور فرنٹیئر میل میں آ رہا تھا، اُس وقت فرنٹیئر میل بٹھنڈہ لائن پر چلا کرتی تھی۔میرے ساتھ گاڑی میں ایک نہایت معزز آدمی ہمسفر تھے، مگر میں اُن کو جانتا نہ تھا۔چند گھنٹے