آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 92
180 181 تو نے قلب ماہیت ہی کرنی تھی تو بجائے تانبے کے اپنے نفس کی قلب ماہیت حوالے کریں گے۔میں دبک کر دروازہ کے پاس بیٹھ گیا اور خیال کیا کہ فاضل کا کی ہوتی اور اُسے گندن بنایا ہوتا ، ورنہ سوچ لے کہ یہ کام تجھے کہاں سے کہاں لے جائے گا۔اب تو صرف دو سو (200) روپیہ ہی گیا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ آئندہ رہنے کا ٹھیکرا بھی جائے مگر سونا پھر بھی نہ بنے۔(104) قابلِ رحم دولها قصبہ فاضل کا کا ذکر ہے کہ میں ایک دن شفا خانہ میں بیٹھا تھا یکا یک پولیس کا سپاہی ایک نوجوان شخص کو ہتھکڑی ڈالے اُس کی ضربات کا ملاحظہ کے اسٹیشن پر پلیٹ فارم سے ذرا ورے ہی باہر کود پڑوں گا ورنہ اگر پولیس نے پکڑ لیا تو میری بڑی ذلت ہو گی۔محض اس ذلت اور گرفتاری سے بچنے کے لئے میں نے چھلانگ لگائی تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ چلتی گاڑی میں سے کودنے کی وجہ سے میرے سارے ریشمی اور قیمتی کپڑے پھٹ گئے ، پگڑی کا ستیا ناس ہو گیا اور سارا بدن رگڑوں اور چوٹوں سے زخمی اور چور چور ہو گیا۔میں نے اُس کی ضربات تو پولیس کے کاغذ پر لکھ کر کانسٹیبل کے حوالے کیں اور کوشش کی کہ کم از کم بیچارہ کی ہتھکڑی تو اُتر جائے مگر وہ ریلوے ایکٹ کرانے کے لئے میرے پاس لایا۔رپورٹ صرف اس قدر تھی کہ اس شخص نے و کے ماتحت ایک سنگین دفعہ کا مجرم تھا اور بغیر مجسٹریٹ کے روبرو پیش ہوئے اُس ریلوے اسٹیشن فاضل کا پر ابھی ابھی سگنل کے پاس چلتی ہوئی ٹرین میں سے کی ضمانت تک نہ ہوسکتی تھی چہ جائیکہ رہائی پا جاتا۔چھلانگ ماری ہے۔پلیٹ فارم کے سپاہیوں نے یہ دیکھ کر جھٹ اُسے جا پکڑا۔قریب ہی تھا نہ تھا وہاں لے گئے اور پرچہ چاک کرا کر ہتھکڑی پہنا کر شفاخانہ میں لے آئے تاکہ اُس کی چوٹیں لکھی جائیں۔جرم صرف یہ تھا کہ اُس نے چلتی گاڑی میں سے چھلانگ لگائی ہے۔میں نے نوجواں کی طرف نظر کی تو وہ کوئی بیس بائیس سال کا آدمی تھا۔رنگین گوٹے دار پگڑی سر پر تھی اور گرتہ پاجامہ بھی نیا اور بھڑکدار تھا۔پوچھا کہ اصل بات کیا ہے؟“ وہ بیچارہ رو پڑا اور کہنے لگا کہ ”میں ایک برات کا دولہا ہوں، ہمارا گھر یہاں سے تین چار اسٹیشن پرے واقع ہے اور میں اپنی برات لے کر دلہن کو بیاہنے ریل کے ذریعہ سفر کر رہا تھا کہ پچھلے اسٹیشن پر مجھے پیاس لگی۔اُتر کر پانی جو پینے لگا تو گاڑی چل دی میں بھاگ کر ایک خانہ میں چڑھ گیا ، مگر چڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ زنانہ درجہ ہے۔فوراً عورتوں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا کہ یہ کون مرد ہے ہمارے خانہ میں آ گھسا ہے۔بعض نے یہ بھی کہا کہ اگلا اسٹیشن آ لینے دو مجھے پولیس کے اب دوسری طرف کا حال سنیئے۔جب فاضل کا کا اسٹیشن آیا تو ساری برات وہاں اُتری کیونکہ وہیں سے برات کو اُس گاؤں میں جانا تھا جہاں دُلہن والے رہتے تھے۔مگر کیا دیکھتے ہیں کہ دولہا غائب ہے۔بہتیرا ڈھونڈا مگر اُس کا پتہ نہ لگا۔وہ بیچارہ تو تھانہ میں اور اُس کے بعد شفاخانہ میں مجرموں کی طرح چھکڑی پہنے کھڑا تھا۔اُن لوگوں کو بڑی پریشانی ہوئی۔اسٹیشن کے پاس ہی تھانہ تھا وہاں رپورٹ کی۔کسی نے کہا کہ ”ہاں اس شکل کا ایک لڑکا چلتی ریل میں سے کودنے کے جرم میں گرفتار ہو کر ابھی یہاں آیا تھا اور اب شفا خانہ میں ہوگا وہاں جا کر دیکھو کہیں وہی تو تمہارا دولہا نہیں ہے؟ وہ بیچارے بھاگے بھاگے ہسپتال آئے تو عجب نظارہ دیکھا کہ جو گھر سے صبح کے وقت دولہا بن کر اور صبح و صبح کے کپڑے پہن کر نکلا تھا اب دو پہر کے وقت ہتھکری پہنے مجرم بنا کھڑا ہے اور ہئیت کذائی اس کی یہ ہے کہ سارا بدن چھل گیا ہے۔ناک اور پیشانی سے لہو بہہ رہا ہے۔سر سے ننگا ہے۔پاجامہ