آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 91 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 91

178 179 پر ہر جگہ لعنت ملامت پڑ رہی ہے، بتائیے کیا کروں؟ میں نے کہا ”افسوس کیوں کرتے ہو، بیشک وہ شخص تمہارا روپیہ تو کی تھی۔خیر اسے بھی رحم آ گیا اور کہنے لگا کہ فی الحال ایک چوٹی لے آ‘ میں ماں کوشش پر غش آ رہے ہیں اور لوگ اپنے قرضہ کا تقاضا کر رہے ہیں اور مجھے لے آیا اُس نے اُس پر کچھ دوا لگائی، کچھ چھٹڑ کی ، پھر اُسے آگ میں رکھ دیا۔تین گھنٹے کے بعد مجھے بلا کر میری ہتھیلی پر خالص سونے کی ایک چونی رکھ دی جس پر وہی تصویر اور وہی سنہ تھا جو اصلی چوٹی پر تھا۔اب تو میرے پیٹ میں چو ہے دوڑنے لگے۔غریبی ، پرانی دھت، پہلی ناکامیابیاں اور آنکھوں کے سامنے ایک بزرگ صفت آدمی کا سونا بنا کر دکھا دینا۔غرض میں اُس شخص کا بندہ بے دام ہو گیا۔شاہ صاحب بھی کچھ کچھ ہاں ہوں کرنے لگے۔آخر یہ فیصلہ ٹھہرا کہ کم از کم دو سو (200) روپیہ کا زیور چاندی کا ہو یا چاندی روپیہ کی " لے کر بھاگ گیا ، مگر نسخہ تو سکھا گیا " میرے عزیز نے سخت غصہ سے کہا کہ نہ وہ سکھا گیا نہ اُس خبیث کو خود آتا تھا میں نے کہا اُسے آتا تھا اور وہ یہی تو تھا کہ وہ تم سے بغیر محنت کے پورے دوسو (200) روپے وصول کر کے چل دیا۔اُس سے زیادہ اور کیمیا کسے کہتے ہیں؟ اور تمہیں بھی یہی سکھا گیا کہ جب بھی روپے کی ضرورت ہوا کرے یہی نسخہ استعمال کیا کرو، بس " ہی صورت میں جمع کی جائے تاکہ پہلا گھان سونے کا تیار ہو سکے۔اس کے یہی کیمیا ہے اُس نے جل بھن کر کہا کہ " کیمیا برحق ہے مگر یہ شخص ٹھگ بعد یہ عمل سکھا بھی دیا جائے گا۔میں سنتے ہی گھر کو دوڑا اور غریب ماں کے زیور کا صندوقچہ اُڑا لیا۔اُس کے علاوہ میرے اپنے پاس کچھ روپے تھے وہ لئے ، پھر ایک دو محلے والوں سے پچاس کے قریب روپے قرض لے کر سب کو شاہ صاحب کے حوالہ کیا اور اُنہوں نے ایک بھٹی گھر کی بیٹھک میں چڑھا دی جو رات بھر گرم رکھی جاتی تھی۔مجھ سے شاہ صاحب نے کہا کہ ”تم بھی رات کو یہاں آ جانا میں نے کہا ” مجھے آپ پر کامل اعتبار ہے اور رقم معمولی ہے اور میری والدہ گھر میں اکیلی ہے میں صبح ہی حاضر ہوں گا رات بھر مجھے خوشی کے مارے نیند نہیں آئی ڈھائی سیر پختہ سونا! خالص سونا! یعنی دوسو (200) روپیہ کے بدلے پانچ ہزار روپیہ نقد اور نسخہ الگ !!! صبح ہوتے ہی باہر نکلا تو شاہ صاحب کے کمرہ کی کنڈی اندر سے لگی ہوئی تھی۔بہتیرا کھٹکھٹایا۔شاہ صاحب کو آوازمیں دیں مگر کوئی نہ بولا۔آخر دیوار پھاند کر باہر کی طرف سے گیا تو نہ شاہ صاحب، نہ روپیہ، دونوں میں سے کسی کا نشان تک نہ تھا۔البتہ بھٹی ٹھنڈی پڑی ہوئی میری قسمت کو رو رہی تھی۔بہت دوڑ بھاگ کی کچھ پتہ نہ ملا۔اب بوڑھی تھا۔کیا آپ نے نہیں سُنا کیمیا و سیمیا و ریمیا کس نداند جز بذات اولیا میں نے کہا وہ یہی کیمیا اور سیمیا ہے جو شاہ صاحب آپ کو تعلیم دے گئے ہیں۔وہ اولیاء بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے شاہ صاحب تھے جو آپ کے گھر میں ٹھہر کر اور آپ کو مونڈ کر چلے گئے۔پس بسم اللہ پڑھ کر اس پر عمل شروع کر دیجئے۔اس سے بڑھ کر اور کوئی کیمیا نہیں“ وہ صاحب کہنے لگے ” کیا پھر یہ سب جھوٹ ہی جھوٹ ہے؟“ میں نے کہا اور کیا۔بھلا ایمان سے کہو تم نے کبھی بھی سنا ہے کہ کسی شخص نے واقعی سونا بنا لیا ہو پھر وہ اس وجہ سے بڑا بھاری امیر اور متمول بن گیا ہو۔بات یہ ہے کہ دُنیا میں بنوں کی طرح طرح کی قسمیں ہیں۔ایک اُن میں سے یہ بھی ہے کہ جانتے بوجھتے ساری دولت برباد کر دیتے ہیں اور پھر بھی جو پیسے کماتے ہیں وہ اسی میں پھونکتے رہتے ہیں۔تف ہے ایسی عقل پر اور لعنت ہے ایسے منحوس پیشہ پر۔اے بیوقوف! اگر