آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 90 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 90

177 176 سونے کے زیور کو ہی دو گنا چوگنا کرنے لگے اور حال کے کیمیا گر تو نوٹوں کو ایسے جواب کے آگے کوئی کیمیا گر بھلا کہاں ٹھہر سکتا ہے؟ بس خاموشی سے منہ لٹکائے واپس چلا جاتا تھا۔اس تمہید کے بعد میں ایک اصلی واقعہ اسی کیمیاگری دو گنا کرنے کے مدعی ہیں، مگر یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بئے ہیں۔ہمیشہ ایسے اشخاص کوئی نہ کوئی بیوقوف شکار پھانس لیتے ہیں اور اُس کا روپیہ یا زیور بڑھانے یا دُگنا کرنے کے بہانے ٹھگ کر خود چنیت ہو جاتے ہیں اور اُس کا سُنا دیتا ہوں۔میرا ایک عزیز ایک دفعہ میرے پاس روتا ہوا آیا۔میں نے کہا " کیا بیوقوف کو روتا چھوڑ کر دوسروں کے لئے عبرت بنا جاتے ہیں، مگر اکثر لوگ ہوا؟ کہنے لگا ” میں تو کٹ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ میرے اپنے مال پھر بھی اصل معاملہ کو نہیں سمجھتے اور یہی کہتے رہتے ہیں کہ صرف یہ فقیر ٹھگ کے سوا دوسروں کا بھی کچھ مال میں نے قرض لیا تھا وہ بھی ساتھ ہی لے گیا۔اور بے ایمان تھا مگر کیمیا تو برحق علم ہے ہی۔سنیئے تو سہی بُزرگ لوگ کیا میں نے پوچھا "آخر کیا ہوا، معاملہ تو بتاؤ؟“ بچارے کی غم کے مارے گھنگی بندھی ہوئی تھی۔بڑی مشکل سے اُس نے بتایا کہ ” مجھے مدتوں سے کیمیا کی فرماتے ہیں۔کیمیا و سیمیا و ریمیا کس نداند جز بذات اولیا ہو دھت لگی ہوئی تھی۔گشتے اور بھٹیاں لگاتے لگاتے جو اندوختہ تھا وہ رفتہ رفتہ ختم گیا۔پھر نوکری کی وہ بھی بے حیثیت مگر اس میں سے دس آنہ فی روپیہ اسی حالانکہ اصل یہ ہے کہ کیمیا تو ہے مگر یہی جس کا نمونہ یہ ٹھگ دکھا شوق کی نذر ہوتا تھا۔یہی وجہ تھی کہ نہایت سخت تنگی سے گزران ہوتی تھی۔تین جاتے ہیں اور چند گھنٹے کے اندر سینکڑوں روپیہ کا مال ہضم کر جاتے ہیں اور چار دن ہوئے ایک فقیر آیا نہایت معتبر بلکہ بزرگ صورت، اور آتے ہی دوسرے طالبوں کو بھی سکھا جاتے ہیں کہ بس یہی ترکیب ہے۔تم بھی اسی طرح تصوف کے چند کلمات اور کچھ چکنی چپڑی مؤثر باتیں سُنائیں، ایسی کہ میں تو لوگوں کا مال خُرد برد کر لیا کرو اور یہی کیمیا کا نسخہ ہے، مگر لوگ اُس کیمیا کے مسحور ہو گیا۔رات کو وہ میرے ہاں ہی ٹھہرا۔وظیفے اور نمازیں پڑھتا رہا۔صبح کو طالب ہیں جو دُنیا میں موجود نہیں اور جو ہے اُس پر عمل نہیں کرتے۔بس اتنا سا اُس نے میرے ہاتھ پر ایک ٹکڑا سونے کا رکھ دیا کہ ” مجھے مفت خورہ مہمان فرق ہے اور ذرا سا سمجھ کا پھیر ہے ورنہ وہ کیمیا ساز تو سچ مچ کامیابی سے اپنا مت سمجھو، میں غریب نہیں ہوں۔خدا تعالیٰ نے بڑے بڑے علم سکھائے ہیں۔ازاں جملہ ایک کیمیا کا علم بھی ہے جو خاص وراثت اولیاء کی ہے یہ ٹکڑا سونے کا میرے ایک بزرگ تھے اُن سے جو شخص بھی یہ ذکر کرتا کہ ”مجھے کیمیا لو اور فروخت کر کے میرے لئے فلاں فلاں چیزیں خرید کر لا دو“ میں تو پہلے ہی فن دکھا بھی جاتے ہیں اور سکھا بھی جاتے ہیں۔بنانی آتی ہے آپ مجھ سے سیکھ لیں تو وہ یہی فرمایا کرتے تھے کہ ”بڑی مہربانی ہو گی اگر آپ خود ہی سیر دوسیر سونا بنا کر اس میں سے صرف پاؤ بھر مجھے دے دیں باقی خود خرچ میں لے آئیں۔آپ کے ہوتے مجھے سیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔میری ضروریات کے لئے تو آپ کا دیا ہوا پاؤ بھر سونا بھی بہت کافی ہے“ ,, گشته کیمیا تھا، سونا دیکھتے ہی رال ٹپک پڑی سُنار کے ہاں وہ ٹکڑا فروخت کیا۔اُس نے بھی کہا کہ یہ سونا اتنا کھرا ہے کہ کبھی شاذ و نادر ہی بازار میں ایسا آتا۔ہے بس پھر کیا تھا میں تو شاہ صاحب کا مرید ہو گیا۔اور ایسی عاجزی کے ساتھ اس نسخہ کا طلب گار ہوا جتنی عاجزی کبھی ساری عمر خدا تعالیٰ کے آگے بھی نہ "6