آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 89
175 174 مگر سب سے بلند اور اونچی آواز یہ تھی کہ دیکھنا میرے باز کو چوٹ نہ لگے ہو گیا، بلکہ ٹوپی، گردن، چہرہ اور کوٹ کبھی تر بتر ہو گئے۔غریب بابو تو اس صدمہ ہزار روپے کا باز ہے۔مجھے بیشک مار لے مگر دیکھنا باز کا نقصان نہ ہو۔اُدھر سے قریب المرگ ہو گیا مگر اُس کے ساتھیوں نے اپنی لکڑیاں سنبھال لیں اور فریق ثانی چاہتا تھا کہ ان بازوں کو ہی فنا کر دے کیونکہ قصور باز کا تھا نہ کہ باز جنگ شروع ہو گئی۔باز دار لوگ چونکہ اپنے ہاتھوں پر بازوں کو بٹھائے ہوئے بلکہ باندھے ہوئے تھے وہ سوائے اس کے کہ یہ الفاظ بار بار چیخ کر کہیں کہ والے کا۔اسی جھگڑے میں پولیس آ گئی۔لڑنے والے پکڑے گئے اور وہ سارا دیکھنا ہزار روپے کا باز ہے اسے چوٹ نہ لگے اپنے تئیں بچا نہ سکتے تھے، مگر لشکر تھانہ کی طرف بھیجا گیا تو اصل حال کھلا۔ریلوے بابو کی تو ساری پونچی، سارا حسن ، ساری زینت تباہ ہو چکی تھی اُس کے بات یہ ہوئی کہ ایک ریلوے کا کلرک جو ہیں (20) روپیہ کا ملازم تھا اور اُس کے ساتھیوں کے حملے برابر جاری رہے۔آخر اس ڈر سے کہ کہیں کوئی اُس نے اُس سال اپنی تنخواہ میں سے بچا بچا کر اور اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر اتنی باز اس معرکہ میں کام نہ آ جاوے وہ باز دار مجبور ہو کر بنچوں کے درمیان میں رقم جمع کی کہ جاڑے میں اپنے لئے ایک گرم کوٹ بنا سکے۔وہ کوٹ بہت سے گیلری کے نیچے کود گئے اور جان سلامت لے کر بھاگے، مگر پھر بھی یہ دنگہ خوبصورت کشمیرے کا تھا اور اسی دن درزی کے ہاں سے سل کر آیا تھا۔بابو فساد اتنا بڑھا کہ پولیس کو مداخلت کرنی پڑی بلکہ میں چھپیس منٹ کے لئے اس کوٹ کو پہن کر فخر یہ سرکس کے منڈوے میں داخل ہوا، اور گیلری کی ایک بینچ سرکس والوں کو بھی اپنا تماشا بند کرنا پڑا۔جب وہ سب لوگ پولیس کی حراست پر تماشا دیکھنے بیٹھ گیا۔اُس سے اوپر کے بینچ پر باز والے شکاری بیٹھے تھے۔میں تھا نہ انارکلی کی طرف دفعہ 147 کے ماتحت پکڑے جا کر وہاں سے رخصت جب تماشا شروع ہوا اور لوگوں نے ہر کرتب کے بعد تالیاں پیٹنی شروع کیں تو ہوئے تو پھر تماشا دوبارہ شروع ہو سکا، اور سرکس کے اندر جو ایک دوسرا سرکس باز کھبر ائے اور بار بار شکاریوں کے ہاتھوں پر حرکت کرنے اور پھڑ پھڑانے لگے شروع ہو گیا تھا اُس سے امن میلا ، مگر پھر بھی باقی لوگوں میں آخر تک یہ بحث جس کی وجہ سے اُن کے گھنگروؤں کی آواز بعض دفعہ اتنی بلند ہوتی تھی کہ جاری رہی کہ قصور کس کا تھا؟ اُن کا جو بازوں کو اندر لائے تھے یا اُن کو جو نزدیک کے لوگ سرکس کا تماشا کرنے والوں کی باتیں نہیں سُن سکتے تھے۔اس بازوں کو دیکھ کر پھر بھی اُن کے زیر سایہ تماشا دیکھنے بیٹھ گئے تھے؟ مگر ایسی پر پہلے تو آہستہ آہستہ تو تو میں میں شروع ہوئی، مگر ابھی معاملہ اس سے آگے باتوں کا نہ تو کبھی فیصلہ ہوا ہے نہ ہوگا لیکن مجھ پر اس واقعہ کا یہ اثر ہوا کہ جب نہ بڑھا تھا کہ ایک باز نے اس زور سے اپنی پیٹ کی پچکاری اُس ریلوے بابو انسان کسی مجلس میں جائے تو اسے ایسی جگہ بیٹھنا چاہئے جو (CUT OF کی طرف شوٹ کی کہ بچارا سر سے پیر تک چھینٹم چھینٹ ہو گیا اور وہ اعلیٰ THE LINE OF FIRI) آتشیں لائن کی زد سے الگ ہو۔درجہ کا کوٹ جو مدتوں کی تمناؤں اور پیسہ پیسہ جمع کر کے اُس نے ایک فیشن ایبل درزی سے سلوایا تھا اور اُسی دن پہلی دفعہ پہن کر اپنے گھر سے سیدھا سرکس میں آیا تھا گردن سے لے کر نیچے تک سفید داغوں سے آلودہ اور افشاں (103) کیمیاگر پہلے کیمیاگر چاندی سے سونا بنانے کے دعویدار تھے، پھر یہ لوگ