آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 59 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 59

115 114 کے اوپر چڑھے ہوئے کاغذ کے درمیان ایک قطعہ کاربن پیپر کا اور اُس کے نیچے ایک سفید کاغذ رکھا ہوتا تھا پنسل جو لکھنے کو دیتے تھے وہ نہایت سخت قسم کی ہوتی تھی۔اس لئے مجبوراً لکھنے والے کو خوب زور سے دبا کر اپنی عبارت " پڑتی تھی۔پھر اوپر کا کاغذ تو سائل خود پھاڑ دیتا تھا مگر اندر کے کاغذ پر کاربن پیپر کی وجہ سے وہ سب عبارت نقش ہو جایا کرتی تھی۔اس کے بعد پیر جی اندر جا کر اس کاغذ کو پڑھ لیتے تھے اور آہستہ آہستہ بڑی حکمت کے ساتھ سارا مضمون بیان کر دیا کرتے تھے۔غالبا پانچی آنے وہ اس عمل کی نذر کے لیا کرتے تھے۔اور دن بھر میں اس طرح سے کئی کئی روپے کما لیتے تھے۔سرکاری دفاتر کے بابوؤں کا تو ہر وقت وہاں جمگھٹا لگا رہتا تھا۔(59) تندرستی اسے کہتے ہیں لائل پور میں مردانہ اور زنانہ شفا خانے الگ الگ ہیں ایک دفعہ لیڈی ڈاکٹر جو چار روز کی رخصت پر کہیں گئی تو اُس کی غیر حاضری میں ایک کیس رات کے وقت ایک سکھ حاملہ عورت کا وہاں آگیا۔نرسوں نے اُس کے علاج کے لئے مجھے بلالیا میں نے جا کر دیکھا کہ پچپن سال کی ایک تنومند مضبوط عورت تھی جس کو تین دن سے دردِ زہ ہو رہا تھا مگر بچہ پھنسا ہوا تھا۔باہر کی بہت سی دائیوں نے کوشش کی تھی مگر ناکام رہی تھیں۔میں نے کہا ”تمہارے کتنے بچے اس سے پہلے پیدا ہو چکے ہیں؟ کہنے لگی ” یہ تیرھواں بچہ ہے۔اور اس سے پہلے کسی ولادت میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔میں نے جب اُس کا ملاحظہ کیا تو وہ کیسی عجیب سا معلوم ہوا درد بھی ٹھیک اُٹھ رہے تھے بچہ بھی درست پوزیشن میں تھا غیر معمولی بڑا بھی نہ تھا۔مگر باوجود دردوں کے پیدا نہ ہوتا تھا۔خیر ڈاکٹری کی ایک حکمت سے وہ آدھ گھنٹہ میں پیدا ہو گیا۔یعنی میں " نے بچہ کو پھیر کر اُس کے پیر نیچے کر دیے۔پھر اُسے کھینچ کر نکال لیا۔اس کے بعد چند منٹ میں آنول بھی نکل آئی۔اور دس منٹ کے بعد ایک بڑا سا گولا جو بچہ کے سر سے بھی بڑا تھا باہر نکلا جسے دیکھ کر ہم سب حیران ہوئے۔وہ گولا نرم اور تقریباً دو تین سیر کا تھا۔آخر اسے توڑ کر دھو کر اور کاٹ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ روئی ہے جو تیل میں تر بتر ہے۔پوچھنے پر اس مریضہ کی ساتھی عورت نے بتایا کہ جب بچہ پیدا ہونے میں ذرا دیر ہوئی تو وہاں کی دائی نے روئی کے پنبے تیل میں بھگو کر اندر رکھ دیے تا کہ بچہ کو باہر پھسل آنے میں سہولت ہو۔مگر وہ اتنے زیادہ تھے کہ خود پیدائش میں روک بن گئے۔پھر دوسری دائی بلائی گئی۔اُس نے بھی وہی عمل کیا۔پھر تیسری بلائی گئی اُس نے بھی اور کچھ ٹھونس دیے اور یہی باعث تھا کہ بچہ پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔اور جب بچہ پیدا ہوا تو پھر وہ سب ملبہ اندر سے نکل آیا دوسرے دن صبح کو جب میں زنانہ شفا خانہ میں گیا تو مریضہ نے کہا۔”میں اچھی ہوں اور تیسرے دن تو پلنگ سے اُتر کر کھڑی ہوگئی کہ میں آج گھر جاؤں گی۔میں نے بہتیرا سمجھایا مگر اُس نے یہی کہا کہ " مجھے قطعاً کوئی تکلیف نہیں ہے میرا گاؤں یہاں سے پندرہ میں ہی تو ہے۔ہم وہاں ٹم ٹم پر آرام سے پہنچ جائیں گے۔خواہ مخواہ کیوں پلنگ پر بیمار بنی لیٹی رہوں۔کوئی کمزور صحت نازک بدن شہری عورت ہوتی تو ایسی کاروائی سے فوراً سیپٹک ہو جاتی۔اور نہ بھی ہوتی تو چالیس دن کے بعد بھی بمشکل شفاخانہ سے رخصت ہونے کے قابل ہوتی۔(60) گھی سے زکام جالندھر اور امرتسر والے مشہور آنکھوں کے سرجن سمتھ صاحب کو نزلہ بہت جلدی ہو جایا کرتا تھا۔شفاخانہ میں کئی دفعہ ناک پونچھتے ، چھینکیں لیتے اور