آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 58
113 112 گئی۔میں بڑے دیوان صاحب بھی دورے سے واپس آگئے انہوں نے ساری غلطی اور ابتدائی رپورٹ بکمال حکمت ٹھیک ٹھاک کر دی۔ورنہ منشی جی کی خیر نہ یہ سُن کر اُن جائوں کے رنگ فق ہو گئے۔تو کیا اجی منشی جی! آپ نے لاش چیرنے کے لئے ڈاکٹر صاحب کو سچ سچ لکھ دیا ؟ منشی جی کہنے لگے۔تھی۔اور کیا کرتا ؟ قاعدہ جو یہی ہوا۔اب تو وہ لوگ چکرائے اور کہنے لگے منشی جی ! ذرا دیکھ تو لو شاید کوئی سانس اس مُردہ میں باقی ہو“۔یہ سُن کر تو منشی صاحب کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور بڑے غصہ (58) غیب دان پیر شملہ میں ایک سال ایک غیب دان پیر صاحب تشریف لائے اور چند دنوں میں ہی انہوں نے غیر معمولی شہرت حاصل کر لی۔اُن کا طریقہ یہ تھا کہ سے کہنے لگے " حرامزادو! پہلے کہا کہ ہمارا بھائی قتل ہو گیا ہے جب میں ابتدائی جو کوئی شخص اُن سے اپنے دل کی بات پوچھنے یا کسی خواہش کا جواب لینے کو آتا رپورٹ لکھ چکا اور ڈاکٹر صاحب کو اطلاع دے چکا تو اب بکتے ہو کہ دیکھ لو شاید کوئی سانس باقی نہ ہو۔تھا تو اُس کے ہاتھ میں ایک مجلد دیوانِ حافظ جس کی جلد پر کاغذ چڑھا ہوا تھا دے دیا کرتے تھے۔ساتھ ہی ایک پینسل اور سادہ کاغذ کا ٹکڑا۔ابھی وہ شخص یہ کہہ کر منشی جی تھانہ کے صحن میں آئے اور آتے ہی مُردہ کا لحاف سامنے بیٹھ کر مگر اُن کی نظر سے اوجھل اپنا مطلب اس کاغذ کے ٹکڑے پر لکھ دیا گھسیٹ کر پرے پھینک دیا۔رام سنگھ کے ننگے بدن کو جو ٹھنڈی ہوا لگی تو وہ کانپنے لگا۔اور منہ پر جو سیدھی دھوپ کی شعاع پڑی تو اُس کی آنکھیں جھپکنے اور منکنے لگیں۔پھر کیا تھا منشی جی کے غصہ کا تھرما میٹر 212 پر جا پہنچا۔ایک دو تین چار پانچ چھ ٹھڈے پر ٹھڈے جو رام سنگھ کو لگے تو وہ بندر کی طرح کود چار پائی " کرتا تھا۔اس کے بعد اُسے حکم ہوتا کہ تم اس کاغذ کو خود ہی لے جا کر اور پھاڑ کر باہر پھینک دو۔جب وہ پھینک آتا تھا تو غیب دان صاحب اندر کے کمرہ میں اسی دیوانِ حافظ سے فال لینے جاتے تھے۔پھر باہر نکل کر کہتے کہ شاید آپ مقدمہ کے متعلق دریافت کرنا چاہتے ہیں۔یا آپ غالباً اولاد 66 سے دور جا کر کھڑا ہو گیا۔منشی جی وہاں بھی اُس سے جا لیٹے ” کیوں بے تو مرا کے خواہشمند ہیں۔یا آپ کا دل کسی کے عشق میں مبتلا ہے۔پھر آہستہ آہستہ پوری بات جو لکھی گئی تھی۔تھوڑی تھوڑی تفصیل کے ساتھ بتاتے جاتے ہوا تھا؟ تو مقتول تھا؟ تیرا خون ہو گیا تھا؟ جا اب اپنی لاش چیروانے حرامزادوں نے مجھے دھوکہ دیا اور ابتدائی رپورٹ ساری جھوٹ اور غلط لکھوائی ایک دن کے لئے انچارج بنے تھے اب اُلٹی آنتیں گلے پڑیں سور کے بچے کتے کے پتے“۔ادھر ہسپتال میں میں منتظر کھڑا تھا کہ نعش اب تک کیوں نہیں آئی۔تھوڑی دیر میں ایک آدمی بھاگا ہوا آیا وہاں تو اور ہی معاملہ ہو گیا ہے۔اتنے تھے۔آخر کار جو کچھ اس سائل نے کاغذ پر لکھا ہوتا تھا وہ حرف بحرف اُسے سنا دیتے تھے۔پبلک کے لوگ بہت حیران تھے کہ کس طرح یہ شخص بغیر دیکھے ہمیشہ صحیح جواب دیتا ہے۔آخر کچھ دنوں کے بعد پیر جی کا بھانڈا پھوٹ گیا اور ساری چالا کی ظاہر ہوگئی۔تفصیل اس عمل کی یوں ہے کہ پیر جی نے دیوانِ حافظ کی جلد اور اُس