آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 60
116 چھوں چھوں کرتے آیا کرتے تو کہا کرتے تھے کہ آج خانساماں کم بخت نے گھی کھلا دیا۔اتفاق سے باورچی خانہ میں چربی ختم ہو گئی تھی اس لئے گھی کے ساتھ گوشت کو فرائی کر لیا۔اب اس گھی کھانے کا نتیجہ بھگت رہا ہوں۔یہ سُن کر ہندوستانیوں کو تو حیرت ہوگی کہ چربی سے تو اُن کو کوئی 117 پر ہیز کرتا ہے۔ورنہ بعض دوسری قو میں تو فخریہ انہیں استعمال کرتی ہیں۔(62) چنا ایک دن سونی پت کے شفا خانہ میں ایک بڑھا لالہ اپنے دو سال کے تکلیف نہ ہوتی تھی مگر گھی کھاتے ہی زکام اور نزلہ شروع ہو جاتا تھا۔بات یہ پوتے کو گود میں لایا اور اُسے بینچ پر لٹا دیا۔پھر کہنے لگا کہ یہ بچہ شاید چنا کھا گیا ہے کہ جو عادت بچپن سے ڈالی جائے وہی راسخ ہو جاتی ہے۔اور جن چیزوں کے روزانہ کھانے کا انسان عادی ہو جائے وہی طبیعت کے ساتھ مل جاتی ہیں۔ہے۔اس لئے بے ہوش ہے۔میں نے کبھی چنوں سے لوگوں کو بے ہوش۔ہوتے نہیں سنا تھا اس لئے اس کا مطلب نہ سمجھ سکا۔بار بار پوچھا مگر وہ یہی کہتا پنجاب کا آدمی تیل کھالے تو اُسے تکلیف ہوتی ہے اور یورپ کا رہنے والا کھی رہا کہ ”یہ شاید چنا کھا گیا ہے۔میں نے اُس سے کہا کہ "تم چنا نہیں کھالے تو وہ تکلیف پاتا ہے۔غرض یہ کہ عادت بڑی زبردست چیز ہے۔(61) رابڑی باجرہ کھانے والے غریب علاقوں میں ایک چیز رابڑی بنتی ہے اور غریب ہو یا امیر مزدور ہو یا جے پور کا راجہ سب لوگ اس کے گرویدہ ہیں وہ اس طرح بنتی ہے کہ باجرے کا آٹا چھا چھ یعنی کھٹی لسی میں گھول کر دھوپ میں کئی گھنٹے رہنے دیتے ہیں جس سے وہ جھاگ اور خمیر دیتا ہے اور اس میں کچھ اب کا سا نشہ پیدا ہو جاتا ہے۔دھوپ میں کام کرنے والے مارواڑی کھاتے؟ بولا ”میں تو کھاتا ہوں مگر مجھے تو کھانے کی عادت ہے اس بچہ نے پہلے کبھی چنا نہیں کھایا تھا اس لئے اسے چنا چڑھ گیا ہے۔میں نے کہا " تم پر نہیں چڑھتا؟ بولا کہ ” مجھے تو دمہ ہے اس لئے کھاتا ہوں اور عادت ہو گئی ہے اس بچہ کو تو عادت نہیں"۔اُس وقت مجھے پتہ لگا کہ اس کی مراد چتا سے کوئی خاص چیز ہے۔میں نے کہا ” تم جو چنے کھاتے ہو وہ ذرا دکھاؤ تو سہی‘ اس پر اُس نے جیب سے ایک ٹین کی ڈبیا نکالی اور کھول کر مجھے چنے دکھائے وہ چنے یہی سفید کابلی چنے تھے جو ہمارے ملک میں پیدا ہوتے ہیں۔بھلا بے ہوشی سے مزدوروں کا یہی ماء اللحم ہے جسے پی کر وہ خوب مگن ہو جاتے ہیں اصل بات یہ چنے کا کیا تعلق؟ اتنے میں ایک واقف کار شخص اُسی وقت شفا خانہ میں آ گیا ہے کہ ہر ملک اور قوم میں کسی نہ کسی قسم کے نشہ کا رواج ہے۔کہیں تاڑی اور ساری بات سُن کر کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب یہ بڑھا تو بے وقوف ہے مجھے استعمال ہوتی ہے، کہیں سیندھی ، کہیں شراب تو کہیں رابڑی۔کہیں شراب گنے سے پوچھو۔دمہ کے مریض سبز دھتورے کا پانی نکال کر اُس میں کابلی اور گڑ سے بناتے ہیں، کہیں چاول یا باجرے سے سندھ میں بھنگ کا زور ہے تو ڈال دیتے ہیں۔چنے اس عرق کو چوس کر موٹے ہو جاتے ہیں پھر اُن کو سایہ راجپوتانہ میں افیون کا۔سرحد میں چرس پیتے ہیں تو دو آبہ میں پوست۔ولایت میں وہسکی چلتی ہے یا بیئر بس ایک متقی مسلمان ہے جو مذہباً سب نشوں چنے میں سکھا لیا جاتا ہے جس سے اُن کا سائز پھر چھوٹا ہو جاتا ہے۔دوبارہ بھی وہی عمل کیا جاتا ہے اور سہ بارہ بھی غرض تین دفعہ بھگو کر اور سایہ میں خشک کر