آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 13 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 13

23 22 جن قوموں نے ریت یا خون بہا کے مسئلہ کو جائز رکھا ہے اُن کو ایسے گھنٹہ کے اندر اندر وہ سب پیڑے غائب تھے۔اب ہم نے دونوں کو دیکھنا موقعوں پر دقت پیش نہیں آتی۔مگر افسوس ہے کہ موجودہ قانون میں ایسی کوئی شروع کیا کہ کس پر روغن جمالگوٹہ کا اثر ہوتا ہے۔جوئے کرے یا جسے اسہال دفعہ نہیں۔(8) دو چور عورتیں جاری ہو جائیں۔بس وہی چور ہے۔آدھ گھنٹہ کے بعد برآمدہ میں سے دائی کی چینیں سُنائی دیں کہ ہائے میں مری۔میرے کلیجہ میں درد ہے۔پاس گئے تو اسے پہلے تو اُبکائی آئی۔پھر اُس نے سب کھایا پیا نکال دیا۔اس کے بعد ہر پانی پت میں میرے ہاں جب پہلی لڑکی (مریم صدیقہ) پیدا ہوئی تو تھوڑے وقفہ کے بعد اسے استفراغ ہوتا رہا میں نے بیوی سے کہا ” یہی چور اُن دنوں انفلوئنزا زوروں پر تھا۔لڑکی پیدا ہونے کے بعد اُس کی ماں نہایت ہے۔خیر معلوم ہو گیا۔اب تم اسے کچھ دہی پلا دو اسے آرام آجائے گا۔مگر وہ سخت بیمار ہو گئی۔ادھر شہر میں موتا موتی لگ رہی تھی ادھر ہمارے گھر میں سب عورت یہی کہتی رہی کہ میرے کھانے کے ساتھ مکھی نگلی گئی ہے۔یہ اُبکائی اسی بیمار پڑے ہوئے تھے۔خدا کی قدرت کہ لڑکی ابھی ہفتہ بھر کی تھی اور برلب گور، وجہ سے ہے۔دو منٹ کے بعد میں برآمدہ سے نکل کر صحن میں آیا تو کیا دیکھتا کہ ایک لاوارث عورت وضع حمل کے لئے شفا خانہ میں آ گئی۔رات کو اُس کے ہوں کہ پاخانہ میں سے کھلائی بڑھیا چیچنیں مار رہی تھی۔”ارے کوئی سنبھالو میں ہاں بھی لڑکی پیدا ہوئی۔پھر تو ہم نے اسے معقول تنخواہ اور کھانے کپڑے کے مری میری بیوی نے پاخانہ کا دروازہ کھول کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اُسے اتنا بڑا وعدہ پر اپنے گھر دوسرے دن ہی بلا لیا۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میری لڑکی کی دست آیا کہ بیت الخلاء کا سارا فرش خراب ہو گیا ہے اور اُس کا تمام پاجامہ بھی حالت سنبھلنے لگی اور وہ خدا کے فضل سے پل گئی۔ورنہ جب پہلی دفعہ اُسے دائی تر بتر ہے اور اسہال کا سلسلہ ایسا جاری ہے گویا کسی نے نلکا کی ٹونٹی کھول دی کے سامنے لٹایا گیا تھا تو دائی نے پوچھا کہ لڑکی کا کیا نام ہے کسی نے کہا مریم۔ہو۔بے چاری بڑھیا ایک درجن دستوں میں ہی نڈھال ہو گئی۔اُس وقت دھ پلانے والی کہنے لگی۔تمہارے بچے اسی طرح سوکھ سوکھ کر مر جاتے لگا کہ کمبخت دونوں برابر کی چور تھیں۔خیر شام تک لشٹم پشٹم دونوں اچھی ہو ہوں گے جو مریم نام رکھا ہے۔خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔وہ دائی تو لڑکی کو دودھ گئیں۔اور اُن کو بھی ہماری حکمت کا پتہ لگ گیا۔اس کے بعد انہوں نے پھر پلاتی تھی مگر ایک اور عورت لڑکی کے کھیلانے پر بھی رکھ لی گئی۔یہ دونوں عورتیں کبھی کوئی چیز چرا کر نہیں کھائی اور ایک ہی نصیحت اُن کے لئے کارگر ہو گئی۔از حد چور تھیں۔گھر میں کوئی چیز کہیں پڑی ہو نظر جھپکنے میں غائب ہو جایا کرتی ور نہ گھر میں کسی خوردنی شے کا کھلا رکھنا محال ہو گیا تھا۔تھی۔ہم سخت تنگ اور حیران تھے۔پتہ نہ لگتا تھا کہ دونوں میں سے کون چور ہے؟ آخر ایک دن ہمارے ہاں کہیں سے کچھ پیڑے آئے۔میں نے اُن میں سے چند پیڑے لے کر اُن پر ایک ایک قطرہ جمالگوٹہ کے تیل کا ڈال کر ایک (9) آج بیاه کل ماتم پتہ میاں الہی بخش ایک نوجوان روجھان میں میرے پاس کمپاؤڈر ہوا کرتا رکابی میں رکھ دیے۔اور رکابی کارنس پر رکھ دی پھر خود اس کمرہ سے ٹل گیا دو تھا۔اس کا اصلی وطن راجن پور تھا۔نہایت شریف اور فرمانبردار کار کن تھا ایک