آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 12 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 12

21 20 میں ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جن کو خود اپنا مٹھائی کھانا کفایت شعاری کی وجہ میں سو رہے تھے کہ رامو نے اپنے گھر سے اُن کے چھتر پر آہستہ آہستہ آ کر ہل سے سزا اور دُکھ معلوم ہوتا ہے۔(6) تلخ تجربه جاتے۔کئی حیادار ڈاکٹر اس طرح نقصان اُٹھاتے رہتے ہیں مگر دینے والے ٹھگوں کے نیک اعمال ڈاکٹروں کے اعمال ناموں میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔میرے خیال میں تو اس قسم کے سودے میں کوئی نقصان نہیں ہے۔(7) بہن کی عقلمندی کا لوہا جسے پھل یا کھالی کہتے ہیں۔سیدھا اس طرح مضروب کے اُوپر گرا دیا کہ وہ اُس کے پیٹ کے اندر گھس گیا مضروب نے غل مچایا۔رامو کود کر واپس اپنے گھر میں اتر گیا۔گاؤں میں ایک ڈاکٹر رہتا تھا اُس نے آکر وہ پھالی پیٹ آج کل تو چاروں طرف نوٹ ہی نوٹ چلتے ہیں۔مگر میری ملازمت کے اندر سے کھینچ کر نکالی۔پھر دو تین ٹانکے لگا کر پیٹ کوسی دیا اور پولیس کو کے زمانہ میں چاندی کے روپوں کی افراط تھی۔لیکن ساری عمر یہی تلخ تجربہ رہا اطلاع دے دی۔کیونکہ پیٹ کے ایسے زخم اکثر مہلک ہوا کرتے ہیں۔خیر کہ جب لوگ گھر پر بلاتے تو اُن میں سے بہت سے اپنے گھر کے کھوٹے مضروب ہمارے شفاء خانہ میں آ گیا۔جہاں وہ ایک دو ماہ زیر علاج رہا مگر روپے کھروں کے ساتھ ملا کر بطور فیس جیب میں ڈال دیا کرتے۔یہ بات جاں بر نہ ہو سکا۔اس کے سارے پیٹ میں پیپ بھر گئی اور دو دفعہ تو سیر سیر بھر ہمارے وقار کے خلاف تھی کہ اُسی وقت وہ روپے نکال کر اور بجا کر دیکھے نکالی گئی۔جب وہ مر گیا تو پولیس نے رامو پر قتل کا مقدمہ چلایا۔اس پر مضروب کی بیوی ریشم نے برادری کو جمع کیا اور کہا کہ مرنے والا تو مر گیا۔اب اگر مقدمہ چلا تو را مو بھی پھانسی پا جائے گا اور ایک کی جگہ دوسگی بہنیں رانڈ ہو جائیں گی۔ہم جوان ہیں جب سر پر کوئی محافظ نہ رہے گا تو ہماری بُری طرح مٹی پلید ہو گی۔میری یہ تجویز ہے کہ جو گواہ بھی مقدمہ میں شہادت کے لئے بلایا جائے وہ عدالت میں اپنے پہلے بیان سے جو پولیس میں دیا تھا منحرف ہو جائے۔نتیجہ یہ ہوگا ہم دونوں بہنوں کا ایک سرپرست اور محافظ تو رہے گا ورنہ ہماری عزتوں کا خدا ہی مالک ہے۔برادری نے اس کی اس عقلمندانہ تجویز پر صاد کیا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ شہادت تسلی بخش نہ ہونے کی وجہ سے رامو بیچ کر چلا آیا۔اور دونوں بہنیں برباد ہونے سے بچ گئیں۔کیونکہ ہندوؤں میں شادی بیوگان تو ہوتی ہی نہیں اگر کوئی بیوہ جوان اور خوبصورت رہ جائے تو اس کا خدا ہی حافظ ہوتا ہے۔اس عورت نے اپنی بہن کو بیوہ ہونے سے اور اپنے تئیں بے یار و مددگار ہونے سے لیا۔ایسے ہوتے ہیں دیہات کے 1916ء کا ذکر ہے۔میں پانی پت میں تھا کہ ایک دن عصر کے وقت پولیس ایک مضروب کو لائی اور حسب ذیل قصہ اُس کے ساتھ لکھا ہوا آیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ”مضروب کی بیوی دو بہنیں تھیں بیوی کا نام فرض کرو ریشم تھا اور سالی کا چاندنی۔دونوں ایک ہی گاؤں میں بیاہی ہوئی تھیں، بلکہ دیوار بیچ دونوں کے گھر تھے۔چاندنی کے میاں کا نام فرض کرو رامو تھا۔اُن کے بیاہوں کے کچھ دن بعد سالی بہنوئی یعنی مضروب اور چاندنی میں مذاق ہونے لگا۔پھر ناجائز تعلق ہو گیا۔رفتہ رفتہ گاؤں میں اس کا چرچا ہوا۔پھر تو چاندنی کے خاوند رامو کو بھی غیرت آ گئی گرمی کا موسم تھا مضروب اور اُس کی زوجہ ریشم اپنے صحن پالیٹیکس (Politics)۔66