آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 14
25 24 وو " دن کہنے لگا کہ حضور ایک ہفتہ کی رخصت درکار ہے۔میں نے پوچھا کا وقت آگیا۔اُس طرح دلہن کو ڈولے میں بٹھا کر ہمارے ہاں بھیج دیا گیا۔کیوں؟ کہنے لگا ” میرا بیاہ ہے اور گھر راجن پور جانا ہے۔خیر میں نے جب وہ سسرال میں آئی تو نیم بے ہوش تھی۔رات بھر میں اُسے پٹیاں کس کس اُسے رخصت دے دی۔چار پانچ دن بعد جو میں شفا خانے صبح کے وقت آیا تو کر باندھتا رہا۔آدھی رات کو وہ بے ہوش ہوگئی اور صبح اللہ میاں کے ہاں کیا دیکھتا ہوں کہ میاں الہی بخش منہ لٹکائے بیٹھے ہیں اور چہرہ سخت مغموم ہے۔سدہاری۔میں روتا پیٹتا یہاں چلا آیا۔میں نے کہا۔”میاں الہی بخش کیا بیاہ کر آئے؟ ابھی تو دو تین دن تمہاری حسن نکھرنے کی جگہ اُسے قبر میں کھینچ کر لے گیا۔اور جنسی میں پھنسی رخصت کے باقی ہیں۔اتنی جلدی کیوں کر آ گئے؟ یہ کہنے کی دیر تھی کہ بچارہ ہوگئی۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔میاں الہی بخش بیا ہے بھی گئے اور اسی دن رونے لگا بلکہ شاید کچھ چینیں بھی نکل گئیں۔میں نے کہا " کیا معاملہ ہے؟ کیا رنڈوے بھی ہو گئے۔بیاہ ملتوی ہو گیا ؟ کہنے لگا ”نہیں سائیں بیاہ تو ہو گیا تھا“۔" میں نے کہا۔”پھر کیا؟ رو کر کہنے لگا۔وہ مر بھی گئی، میں تو حیران رہ گیا۔میں نے پوچھا ” کیوں کر کہنے لگا ”سارا قصہ سُناؤں گا تو آپ سمجھیں گئے، پھر اُس نے سنایا۔(10) ملیریا کی تباہ کاری کرنال کے ضلع میں غالباً سب اضلاع سے زیادہ ملیریا ہوتا ہے۔کیونکہ پانی کی فراوانی ہے۔اور ہر گاؤں میں اتنے اتنے بڑے جو ہر ہیں کہ ان آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں دلہنوں کو مائیوں بٹھانے کی کی وجہ سے ملیریا نہ صرف وہائی رنگ میں پھوٹتا رہتا ہے بلکہ بہت سے دیہات رسم ہے یہ رسم سارے ہندوستان میں رائج ہے مگر ڈیرہ غازی خاں کے ضلع میں میں تو مستقل رہائش اختیار کر لیتا ہے۔رفتہ رفتہ ایسے گاؤں کی آبادی جس میں اس کے ساتھ ایک اور مصیبت بھی ہے۔ہمارے ہاں کے لوگ سیاہ فام زیادہ ملیریا کی اس قدر زیادتی ہو کم ہو جاتی ہے۔مرد اکثر مرجاتے اور عورتیں بیوہ رہ ہوتے ہیں اس لئے ایک مہینہ دلہن کو مائیوں بٹھا کر پھر عین رُخصت والے دن جاتی ہیں۔اور جو ذکور باقی رہ جاتے ہیں وہ زندہ درگور، پیلا رنگ ، آنکھیں اس کی فصد کھولی جاتی ہے۔اور فصد بھی نائی یا جراح نہیں لیتا بلکہ خاص عورتیں یرقان زدہ، پیٹ ایسا کہ تلی بڑھ جانے سے گویا نو ماہ کا حمل ہے۔کام کاج کھیتی جو اس کام کی کاریگر ہیں وہی فصد لیتی ہیں اور اتنا خون نکال دیتی ہیں کہ دلہن باڑی کی طاقت نہیں۔اور سب سے بڑی بات یہ کہ اولاد ہونی بند ہو جاتی ہے۔کا رنگ سیاہی سے زردی کی طرف آ جائے تاکہ وہ نازک اور گوری معلوم اسی طرح کا ایک گاؤں کرنال کے ضلع میں بھی تھا۔ایک دن سُننے میں آیا کہ ہونے لگے۔چنانچہ بد بخت فصد لینے والی نے جب میری دُلہن کی فصد لی تو صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کا ڈیرہ وہاں ایک دو دن میں آنے والا ہے۔(غالباً وہ نشتر گہرا اندر چلا گیا اور ورید کٹ کر اُس کے نیچے جو بڑی شریان تھی وہ بھی زخمی لطیفی صاحب تھے ) خیمے تنبو لگ گئے مگر گاؤں سے میل بھر پرے۔ڈپٹی کمشنر ہو گئی۔پھر کیا تھا خون اُبلنے لگا۔کئی دفعہ پٹی باندھی مگر پٹی کے اندر سے بھی نکلتا صاحب آئے اور حکم دیا کہ صبح اس گاؤں کے نمبر دار وغیرہ ہم سے ملنے آئیں۔رہا۔غرض پٹی پر پٹی خون سے بھرتی تھی اور اُتار کر بدلی جاتی تھی۔آخر رخصتانہ وقت دیا تھا دس گیارہ بجے کا مگر ! ابھی آٹھ بھی نہیں بجے تھے کہ باہر شور وغل