آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 11
19 18 کے لئے اسے داخل شفا خانہ کر دیا جائے۔جب میں روزانہ شفا خانہ جایا کرتا علاقہ میں ایک مقبرہ رندانِ پیر کا ہے جو بہت بزرگ اور اہل اللہ سمجھے جاتے تو اس کے منہ پر پٹیاں بندھی پاتا تھا۔آخر دس بارہ روز کے بعد اس کا بھائی ہیں۔اس علاقہ کے رہنے والے اکثر بلوچ قوم کے تھے اور وہاں خدا کی طرح میرے پاس آیا کہ اب لڑکی اچھی ہے اسے گھر جانے کی اجازت دی جائے۔رندان پیر کی بھی پرستش ہوتی تھی۔خدا کی قسم جھوٹی کھانا معمولی بات تھی۔مگر میں نے کہا اچھا میں پٹیاں گھلوا کر ایک نظر خود بھی اُسے دیکھ لوں۔یہ کہہ کر رندان پیر کی قسم کھا کر جھوٹ بولنا تباہی کے مترادف تھا۔اور مقامی عدالت میں میں نے اُسی آدمی کے ہاتھ ڈریسر کو مع مریضہ کے اپنے سامنے بلوا لیا۔ڈریسر یا رندان کی قسم لی جاتی تھی یا وہاں کے نواب کے سر کی۔ایسی قسم کے بعد پھر نے بھی کہا کہ ”اب زخم کوئی نہیں رہا۔ورم سب اتر چکا ہے۔پٹی کی کوئی کوئی گواہ جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔ایک دن میرے شفا خانہ میں ایک مریض آیا حاجت نہیں رہی۔خیر پٹی اُترنی شروع ہوئی۔جب ساری اُتر گئی تو ڈریسر باتوں باتوں میں میں نے اُس سے پوچھا کہ ”تمہارے کتنے بیٹے ہیں؟ اس نے کہا کہ آپ دیکھ لیں اب یہ جا سکتی ہے یا نہیں؟ میں نے سر اُٹھا کر جو سوال پر وہ کچھ خاموش سا ہو گیا پھر چشم پر آب ہو کر کہنے لگا کہ ” رندان پیر نے اُس کے چہرہ کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ جیسے اندھیری رات میں چاند نکل آیا ہے۔دو بیٹے دیے تھے رب نے کھسن لئے۔یعنی رندان نے تو دو بیٹے دیے تھے مگر گورا رنگ کتابی چہرہ، رسیلی آنکھیں برف کی طرح سفید دانت ، ازحد خوبصورت خدا نے چھین لئے۔یہ شرک کا ایک نمونہ تھا جو وہاں دیکھنے میں آیا۔ناک، غرض چہرہ تھا یا حسن کی کان۔میں جھجک کر رہ گیا اور بے ساختہ میری ,, (5) کفایت شعاری کا کمال زبان سے نکلا کہ یہ کس کو لے آئے ہو؟ ڈریسر سمجھ گیا اور اُس عورت کا بھائی میرے ایک مہربان دوست تھے جو قریباً قریباً میرے کلاس فیلو تھے۔بھی، بھائی کہنے لگا کہ اسی کمبخت صورت نے تو اس کو پٹوایا اور مروایا تھا۔اور یہ وہ بی۔اے کے پرائیویٹ امتحان کے لئے لاہور تشریف لائے اور میرے رقابت کا تو نتیجہ ہی تھا کہ اس بدنصیب کو ہسپتال میں رہنے کی ذلت دیکھنی پڑی مکان پر ہی قیام فرمایا۔مگر تھے نہایت جزرس اور کفایت شعار ایک دن میں تھی۔آپ نے اس کو اُس وقت پٹی ہوئی حالت میں ملاحظہ کیا تھا آج یہ اچھی کالج سے گھر آیا تو دیکھا کہ جلیبیاں کھا رہے ہیں اور جلیبیاں بھی دو آنہ کی ہو کر اپنے پورے جو بن کے ساتھ کھڑی ہے۔صاحب! کچھ تعجب نہ کیجئے۔اکھٹی۔حیران ہو کر میں نے پوچھا " کہ حضرت! یہ فضول خرچی کیسی؟ فرمانے ہمارے لئے تو اس کا حُسن ہی ایک قہر الہی بن گیا ہے۔مگر میری نظر میں، دس لگے ”میں رات کو سوتا رہا، مطالعہ نہ ہو سکا، اس پر میں نے چاہا کہ اپنے نفس دن پہلے کی مکروہ شکل اور اس دن کی چمک، دمک، قلب ماہیت یا کایا پلٹ کا کے لئے کوئی سزا تجویز کروں پہلے تو خیال آیا کہ خدا کے نام پر دو آنے دے دوں۔مگر دل نے کہا کہ خیرات سے تو تیرے نفس کو خوشی ہوگی کیونکہ نیک کام ہے۔اس لئے زیادہ مناسب یہ معلوم ہوا کہ خود ہی دوآنہ کی جلیبیاں کھا لوں، ایک نمونہ تھی۔ا (4) شرک کا ایک نمونہ میں ضلع ڈیرہ غازی خاں کے ایک مقام روجھان میں مقیم تھا۔اس تا کہ نفس کو سخت اذیت اور دُکھ پہنچے اور آئندہ سستی نہ کرے۔سُبحان اللہ ! دنیا