آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 102
201 200 شمله سیر کرنے گئے وہاں گلے میں تکلیف ہو گئی۔شفا خانہ میں دکھایا۔انہوں نے کہا ٹانسل بڑھ گئے ہیں ان کا آپریشن کرا لو۔چنانچہ کرا لیا۔اس کے بعد کوئی تکلیف تو نہ ہوئی مگر خون گلے میں سے جاری رہا اور وہ اسے نگلتے رہے۔نہ انہیں پتہ لگا اور نہ دوسروں کو۔شام کے قریب بڑی بھاری کے خون کی ان کو آئی اور پیشتر اس کے کہ طبی امداد پہنچ سکے وہ ختم ہو گئے۔اسی طرح ایک اور ڈاکٹر صاحب جو عمر رسیدہ تھے ٹانسل کو بالکل معمولی سمجھ کر اور اپنی عمر اور دل کی کمزوری کا خیال کیے بغیر گلے کے آپریشن کے لئے شفا خانہ میں داخل ہو گئے۔اس فن کا امتحان دے کر اپنے کام پر مامور کئے جائیں۔اگر ڈاکٹر اتنے نہ مل سکیں تو جو کمپیونڈر بھی لگائے جائیں اُن کی خاص تربیت اور ٹریننگ اس فن میں کرا کر امتحان لے کر پھر کچھ زائد الاؤنس دے کر ان کو اپنی ڈیوٹی پر مامور کیا جائے۔بعض لوگوں نے آپریشن کو بھی ایک مذاق سمجھ رکھا ہے خصوصاً اپنڈکس کے آپریشن کو۔ذرا سی تکلیف محسوس کی تو خیال کر لیا کہ یہ نا قابل علاج مرض ہے اور آپریشن کے سوا اچھا نہیں ہو سکتا۔اس لئے بغیر کافی مدت اور مناسب ابھی تین چارسانس کلورا فارم کے بھی نہ لئے تھے کہ آپریشن سے پہلے ہی دم علاج کئے فوراً آپریشن کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور پھر اس آپریشن کو کھیل نکل گیا۔میری اپنی پریکٹس میں دو (2) آدمی کلورا فارم سے میز پر مرے ہیں اور دونوں دفعہ ان کو کلورا فارم دینے والے ایسے کمپونڈر تھے جنہوں نے پہلے یہ کام کبھی نہیں کیا تھا۔ایک شخص کی تو کولہے کی ہڈی کا جوڑ اکھڑ گیا تھا میں اسے چڑھا رہا تھا کہ وہ رخصت ہوا۔بڑھا آدمی تھا اور جوڑ چڑھانے کے سمجھتے ہیں حالانکہ دونوں باتیں غلط ہیں۔نہ سوائے خاص حالات کے آپریشن ضروری ہے نہ یہ آپریشن کھیل ہے۔میں نے بیسیوں مریض پیٹ کے درد کے ایسے دیکھے ہیں جنہوں نے اپنا اپنڈکس کٹوا لیا مگر درد پھر بھی جوں کا توں باقی رہا۔یہی حال کار بنکل (سرطان) کے پھوڑے کا ہے۔ہر کار بنکل کے لئے لئے پٹھے اور عضلات پورے ڈھیلے کرنے کے لئے معمولی سے زیادہ کلورا فارم آپریشن ضروری نہیں ہوتا مگر عام طور پر کئی ڈاکٹر اور اکثر لوگ کاربنکل اور درکار تھا۔نیا کمپونڈر تھا جس نے کبھی پہلے یہ کام نہیں کیا تھا۔دوسرا ایک پانچ آپریشن کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں۔اسی طرح آج کل دانت نکلوانے کا حال چھ سال کا بچہ تھا جس کی پتھری کا آپریشن تھا اور پتھری بجائے کاٹ کر نکالنے ہے۔دانت میں ذرا درد ہوا یا ذرا سی پیپ کا شبہ ہوا یا ذرا سا بھی ہلا تو ڈاکٹر کے توڑ کر نکالی جا رہی تھی، اسے بھی ایک بالکل نیا کمپونڈ ر کلورا فارم دے رہا یہی کہتے ہیں کہ ”جھٹ نکالو، فوراً نکالو ورنہ مرجاؤ گے۔“ تھا کہ سانس بند ہو گیا۔پھر بہتیرا مصنوعی تنفس دیا گیا اور جو بھی ترکیبیں سانس کرنال میں ایک انگریز ڈپٹی کمشنر تھے۔ان کو بد ہضمی کی شکایت رہتی لانے کی ہوتی ہیں سب استعمال کی گئیں مگر وہ چل ہی بسا۔اس قسم کی موتوں تھی اور دل گھٹتا جاتا تھا۔ضعف قلب کے لئے وہ روزانہ بیس پچیس انڈے سے رشتہ داروں کو جس قدر صدمہ ہوتا ہے اس کا بیان لا حاصل ہے۔آپریشن کے کمرہ میں انسان زندہ جاتا ہے اور مردہ واپس آتا ہے۔اس وجہ سے یہ کچے کھایا کرتے تھے اور کمزور ہو جانے کے خوف سے یوں بھی بے حد غذا کھاتے تھے۔ان کی ساری بیماری پُرخوری کی وجہ سے تھی۔ایک دفعہ وہ دس روز ضروری ہے کہ ہر بڑے شفاخانہ میں ڈاکٹر کلورا فارم دیا کریں اور وہ خاص کے لئے شملہ رُخصت پر گئے۔واپس آئے تو ان کے خانساماں نے مجھے بتایا