آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 101 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 101

199 198 مطلب نہ حاصل ہوا، پھر لوگوں سے پوچھ پوچھ کر اور دوسرے کاریگر باورچیوں سے مشورے کر کے اصلاح کی مگر کچھ بھی نہ ہوا۔یہ سُن کر ہم نے وہ مچھلی کھانی شروع کی تو معلوم ہوا کہ کھانے کے قابل بھی نہیں۔اس قدر ترشی تلخی ، کڑواہٹ اور تیزی مختلف مصالحوں اور دواؤں کی وجہ سے اس میں پیدا ہو گئی تھی کہ اس کا کھانا محال تھا۔باورچی کہنے لگا کہ علاوہ دم پخت کرنے کے میں نے اس میں برابر کا دہی ڈالا ہے، پھر نوشادر چھڑ کا ہے۔اس کے بعد انجیر پیس کر ڈالا۔پھر بھی کانٹا نہ گلا تو کچری بازار سے لا کر ڈالی۔آخر میں کسی باورچی سے بگلے کی ہڈی بھی لا کر شامل کی۔ایک ڈاکٹر سے گوشت ہضم کرنے کی دوا ملی تھی وہ بھی ڈال دی۔پپیتے کے بیج بھی پیس کر ملائے۔سرکہ بھی چھڑ کا اور پیاز لہسن کا پانی بھی بھرا۔غرض سب کچھ کر لیا مگر کچھ نہ ہوا“ میزبان فرمانے لگے ”لا وہ میرا سلیپر اٹھا دے اور سر ننگا کر کے میرے سامنے بیٹھ جا۔تو نے بھی میرا مدتوں سے ناک میں دم کر رکھا تھا۔آج تو میں بھی تیرا کانٹا گلا کر دل ٹھنڈا کر لوں“ ہم لوگوں نے سفارش بھی کی مگروہ کب ماننے والے تھے۔غرض ہمارے سامنے ہی انہوں نے اس کی چند یا پر پورے سو (100) سلیپر ین ڈالے۔(114) آپریشن یورپ کی ڈاکٹری کا ایک کمال سرجری یعنی جراحی کا علم بھی ہے۔اس کے متعلق ایک عجیب بات یہ میرے تجربے میں آئی کہ تین قسم کے لوگ ہیں جو بہ نسبت اور لوگوں کے آپریشنوں سے بہت ڈرتے ہیں (1) ڈاکٹر (2) پولیس کا سپاہی اور (3) قصائی۔ان لوگوں کو بحیثیت جماعت کے میں نے دیکھا کہ آپریشن کی میز پر لیٹنے سے ان کا دم نکلتا ہے اور میرے نزدیک یہ اس لائن میں سب سے بزدل واقع ہوئے ہیں۔دوسروں پر تو شیر ہوتے ہیں مگر جب اپنے جسم پر زخم لگنے کی باری آئے تو ان کا خون خشک ہو جاتا ہے یا شاید اپنے اعمال سامنے آ جاتے ہیں۔واللہ اعلم۔ڈاکٹروں کا وہم بھی اپنی بیماریوں کے متعلق دوسرے لوگوں سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔خود کسی کو بخار چڑھے تو فوراً پہلے دن ہی ٹائیفائیڈ تشخیص ہو جاتا ہے اور ذرا سی حرارت ہو تو تیسرے دن تک سل دق کا یقین کر لیتے ہیں۔چھوٹی سے پھنسی ہو تو کار بنکل اور کینسر یعنی سرطان سے ورے نہیں ٹھہرتے ، ذرا بدہضمی ہوئی اور دل پر بوجھ محسوس کیا تو حرکت قلب بند ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ایک ڈاکٹر صاحب کے ہونٹ پر ذراسی پھنسی نکلی۔چند دن مرہم لگایا پھر کاسٹک وغیرہ سچ کیا۔پھر اپنے شفاخانہ سے بے رخصت لئے تار روانہ کر کے لاہور چلے گئے اور محکمہ کے افسر بالا اور سب رشتہ داروں کو اطلاع کر دی کہ مجھے سرطان یعنی کینسر ہو گیا ہے۔میں لاہور جا رہا ہوں وہاں جا کر معلوم ہوا کہ معمولی لاہور سور یعنی اور نگ زیبی پھوڑا ہے۔اتنے میں ان کے سب رشتہ دار بھی روتے پیٹتے پہنچ گئے مگر جب حقیقت حال معلوم ہوئی تب شرمندہ " ہوئے۔آج سے تیس سال پہلے آپریشن کے وقت ربڑ کے دستانے پہننے کا رواج نہ تھا اس لئے میرے علم میں چند موتیں نوجوان ڈاکٹروں کی اس وجہ سے بھی ہوئیں کہ دوران آپریشن میں ان کی انگلی پر خراش ہو کر مریض کا زہریلا مواد اس خراش میں لگ گیا تھا اور صرف تین چار دن بیمار رہ کر اور زہر چڑھ کر وہ ڈاکٹر فوت ہو گئے۔ایک ڈاکٹر صاحب دس روز کی اتفاقی رخصت لے کر