آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 100
197 196 لڑکیوں کی صحیح نگرانی والدین کے سوا غیر جگہوں میں خصوصاً جب وہ پڑی کہ آیا کانٹا گل سکتا ہے یا نہیں؟ بعض کہتے تھے کہ گل سکتا ہے مگر میں بے پردہ پھرتی ہوں، ایک محال امر ہے۔ایک لعنت تو سُرخی، سفیدہ، پوڈر، نے کہا کہ کئی دفعہ میں نے طرح طرح کی کوشش کی اور کئی نسخے اور ترکیبیں بال سنوارنے اور حُسن دکھانے کی تھی ہی دوسری لعنت آج کل فحش لٹریچر کی استعمال کیں مگر کانٹا گلنا امر محال ہے البتہ کتابوں میں پڑھا ہے مگر میں اسے ہے۔تیسری لعنت آزادی کی۔چوتھی لعنت بعض حالات میں مردوں کے پہلو پہلو بیٹھنا۔مثلاً مردوں سے تنہا کمروں میں ٹیوشن لینا۔موٹر ڈرائیوروں کی بغل میں یا اُن سے لگ کر اسکول یا کالج جانا۔کالج کی بنچوں پر لڑکوں کے ساتھ دوش بدوش نشست، بارونق سڑکوں پر سیر و تفریح۔اپنے گزارے کے لئے کلر کی کرنی۔سینما اور ٹا کی کا زہر وغیرہ وغیرہ۔میرے اپنے خیال میں غلط سمجھتا ہوں“ باور چی جھٹ بول اُٹھا کہ اچھا میں کل صبح ہی مچھلی لے آؤں گا اور شام کے دستر خوان پر آپ کو گلے ہوئے کانٹے دکھا دوں گا۔معلوم ہوتا ہے حضور کو کوئی کاریگر اور استاد باور چی نہیں ملا ورنہ کانٹا نہ گلنے کے کیا معنی۔ہم نے انہیں ہاتھوں مچھلی کی کنگھیاں گلا دی ہیں کانٹا تو کانٹا رہا میں نے کہا ”میں جب تک آزما نہ لوں اور ایسی مچھلی خود نہ کھا لوں تب سب سے زیادہ جو چیز آج کل رستم قاتل ثابت ہو رہی ہے وہ محش لٹریچر ہے تک ماننا مشکل ہے باورچی ہوا کے گھوڑے پر سوار تھا کہنے لگا ”ہاتھ کنگن کو جو ہر گھر میں نقب لگا کر پہنچ جاتا ہے۔یہ سب سے موذی چیز ہے اور اس کی وجہ سے نہ صرف لڑکیوں کے اخلاق پر بُرا اثر پڑتا ہے بلکہ اُن کی صحت بھی تباہ ہوتی ہے اور شاید پچاس فیصدی لیکوریا کا مرض ایسے لٹریچر کا براہ راست نتیجہ ہے لڑکے تو تباہ ہوئے ہی تھے اب لڑکیاں بھی برباد ہونے لگیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔(113) مچھلی کا کانٹا گلانا ایک دن میں ایک بڑے سرکاری افسر کے ہاں مہمان تھا۔ہم چند آدمی کھانے پر تھے اور کھانے میں مچھلی بھی تھی۔باورچی بھی داد لینے کے لئے وہیں پاس کھڑا تھا۔اتنے میں مچھلی کے متعلق کسی نے کہا کہ اس میں تو بہت کانٹے ہیں“ میزبان نے باورچی سے کہا تو بے کانٹوں کی مچھلی کیوں نہیں لایا" کہنے لگا ”آج تو مہمانوں کی بابت معلوم نہیں تھا نہ خیال تھا ورنہ فرصت ملتی تو میں اس مچھلی کے کانٹے گلا دیتا‘‘ اس پر مہمانوں میں بحث چل " " آرسی کیا ہے حضور کل شام کو ہی ملاحظہ فرما لیں گے لیکن خرچ ایسی مچھلی پر زیادہ ہوتا ہے" میزبان بولے ” جو چاہے خرچ مجھ سے لے لے اور اپنی پسند کی مچھلی بازار سے خود لے آ لیکن اگر کانٹا نہ گلا تو پھر؟ باورچی کے منہ سے بے اختیار نکلا سو جوتے“ میزبان بولے ”منظور لیکن اگر کانٹا نہ گلا تو پھر معافیاں نہ مانگیو نہ یہ لوگ تیری سفارش کریں میں بغیر جوتے لگائے نہ چھوڑوں گا کہو منظور ہے؟ اُس نے کہا ”منظور“ اور معاملہ طے ہو گیا۔دوسرے دن شام کو کھانے کا وقت آیا تو مچھلی بھی آئی اور باور چی بھی مگر اس کا منہ لٹکا ہوا تھا۔سب سے پہلے ہم نے مچھلی پر ہی ہاتھ بڑھایا ”ارے یہ کیا! ایک بھی ٹکڑا سلامت نہیں۔یہ چُورہ چورہ کیوں کر دی؟ خیر مچھلی کوٹولا تو کنکھی بھی سلامت اور کانٹے بھی موجود، نرمی تک نہیں آئی تھی ” کیوں بھئی خانساماں! یہ کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا " مچھلی تو صبح ہی لے آیا تھا اور سب مصالحے جو میرے علم میں تھے وہ بھی۔تمام دن پکتی بھی رہی۔دم بھی دیا۔پہلے ایک مصالحہ ڈالا، ناکام رہا، پھر دوسرا ڈالا، بے نتیجہ، پھر تیسرا ڈالا،