عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 205
عائلی مسائل اور ان کا حل مسلمان عورت کی عائلی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا: ”ایک عورت ماں کے ناطے بچوں کے ساتھ زیادہ تعلق رکھنے والی ہوتی ہے، اس کا زیادہ اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے۔بچپن میں بچے باپ کی نسبت ماں سے زیادہ attach ہوتے ہیں۔تو اگر ابتدا سے ہی اپنے عمل سے اور اپنی باتوں سے بچوں کے ذہن میں یہ بات راسخ کر دیں ، بٹھا دیں تو نسلاً بعد نسل عبادت گزار پیدا ہوتے چلے جائیں گے اور نتیجتا احمدیت کے پیغام کو پھیلانے والوں کی ایک کے بعد دوسری فوج تیار ہوتی چلی جائے گی۔لیکن عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ عورتیں اچھے حالات کی وجہ سے پہلے کے گزارے ہوئے تنگی کے دنوں کو زیادہ جلدی بھول جاتی ہیں اور یہ عورت کی فطرت ہے اور اس کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔لیکن ایک احمدی عورت کو چاہئے کہ اپنی ترجیحات کو دنیا داری کی طرف لے جانے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے احکامات کے نیچے لائیں۔اپنے گھروں کو عبادتوں سے ہر وقت سجائے رکھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو ہمیشہ مد نظر رکھیں۔آپ ہم نے فرمایا: وہ گھر جس میں خدا تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے اور وہ گھر جس میں خدا تعالیٰ کا ذکر نہیں ہوتا ان کی مثال زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔پس اپنے گھروں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ذکر الہی سے سجائے رکھیں تاکہ آپ کے گھروں میں زندگی کے آثار ہمیشہ نظر آتے رہیں۔بجائے اس کے آپ کے خاوند آپ کو 205