عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 204 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 204

عائلی مسائل اور ان کا حل حضور انور نے فرمایا: پھر بیوی کو توجہ دلائی کہ خاوند کے گھر کی، اس کی عزت کی، اس کے مال کی اور اس کی اولاد کی صحیح نگرانی کرے۔اس کا رہن سہن، رکھ رکھاؤ ایسا ہو کہ کسی کو اس کی طرف انگلی اٹھانے کی جرات نہ ہو۔خاوند کا مال صحیح خرچ ہو۔بعضوں کو عادت ہوتی ہے بلا وجہ مال لٹاتی رہتی ہیں یا اپنے فیشنوں یا غیر ضروری اشیاء پر خرچ کرتی ہیں ان سے پر ہیز کریں۔بچوں کی تربیت ایسے رنگ میں ہو کہ انہیں جماعت سے وابستگی اور خلافت سے وابستگی کا احساس ہو۔اپنی ذمہ داری کا احساس ہو۔پڑھائی کا احساس ہو۔اعلیٰ اخلاق کے اظہار کا احساس ہو تا کہ خاوند کبھی یہ شکوہ نہ کرے کہ میری بیوی میری غیر حاضری میں (کیونکہ خاوند اکثر اوقات اپنے کاموں کے سلسلہ میں گھروں سے باہر رہتے ہیں) اپنی ذمہ داریاں صحیح ادا نہیں کر رہی اور پھر یہی نہیں، اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خاوند کا شکوہ یا زیادہ سے زیادہ اگر سزا بھی دے گا تو یہ تو معمولی بات ہے۔یہ تو سب یہاں دنیا میں ہو جائیں گی لیکن یاد رکھو تم جزا سزا کے دن بھی پوچھی جاؤ گی اور پھر اللہ بہتر جانتا ہے کہ کیا سلوک ہونا ہے۔اللہ ہر ایک پہ رحم فرمائے“۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 6 اپریل 2007ء بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 27 / اپریل 2007ء) عورت بحیثیت ماں سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک احمدی 204