عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 203
عائلی مسائل اور ان کا حل میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے احمدی خواتین کو ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: وو ایک عورت کیونکہ ایک بیوی بھی ہے، ایک ماں بھی ہے۔اس وجہ سے اپنے خاوند کے لئے بھی مسائل کھڑے کر رہی ہوتی ہے، اپنے بچوں کی تربیت بھی خراب کر رہی ہوتی ہے۔کیونکہ ان بدظنیوں کا پھر گھر میں ذکر چلتا رہتا ہے۔بچوں کے کان میں یہ باتیں پڑتی رہتی ہیں وہ بھی ان باتوں سے متاثر ہوتے ہیں، اثر لیتے ہیں۔ان کی اٹھان بھی اس بد ظنی کے ماحول میں ہوتی ہے اور یوں بڑے ہو کر وہ بھی اس وجہ سے اس برائی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔تو ایسی مائیں اس قسم کی باتیں بچوں کے سامنے کر کے جس میں فساد کا خطرہ ہو جو ایک دوسرے کے متعلق دلوں میں رنجشیں پیدا کرنے والی ہو ، جو بدظنیوں میں مبتلا کرنے والی ہو ، جن سے کدورتیں پیدا ہونے کا خطرہ ہو، جہاں اپنے بچوں کو برباد کر رہی ہوتی ہیں وہاں جماعت کی امانتوں کے ساتھ بھی خیانت کر رہی ہوتی ہیں“۔(مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 25 ستمبر 2015ء) عورت بحیثیت بیوی اپنے ایک خطبہ جمعہ میں حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوئے ہر شخص کے نگر ان ہونے کے نتیجہ میں اُس پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو بیان فرمایا۔203