عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 190 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 190

عائلی مسائل اور ان کا حل دارالامان گئے مگر وہاں جانے پر معلوم ہوا کہ حضور کسی مقدمے کی وجہ سے گورداسپور تشریف لائے ہوئے ہیں۔چنانچہ وہ گورداسپور گئے اور ایسے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت اور ملاقات کا موقع ملا جب حضور بالکل اکیلے تھے اور چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے۔چنانچہ انہوں نے حضور کو دبانا شروع کر دیا اور دعا کی درخواست کی۔اتنے میں کوئی اور دوست حضور کی ملاقات کے لئے آیا جنہوں نے حضور کے سامنے ذکر کیا کہ اس کے سسرال نے اپنی لڑکی بڑی مشکلوں سے اسے دی ہے ( یعنی واپس بھجوائی ہے)، اب اس نے بھی ارادہ کیا ہے کہ وہ اُن کی لڑکی کو ان کے پاس نہ بھیجے گا۔(شاید آپس میں شادیاں ہوئی ہوں گی۔جو نہی حضور نے اس کے ایسے کلمات سنے حضور کا چہرہ سرخ ہو گیا اور حضور نے غصے سے اس کو فرمایا کہ فی الفور یہاں سے دور ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ تمہاری وجہ سے ہم پر بھی عذاب آجاوے۔چنانچہ وہ اٹھ کر چلا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا اور عرض کی کہ وہ توبہ کرتا ہے، اسے معاف فرمایا جائے۔جس پر حضور نے اسے بیٹھنے کی اجازت دی۔چوہدری نذر محمد صاحب مرحوم کہتے تھے کہ جب یہ واقعہ انہوں نے دیکھا تو وہ دل میں سخت نادم ہوئے کہ اتنی سی بات پر حضور نے اتنا غصہ منایا ہے۔حالانکہ اُن کی اپنی حالت یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو پوچھتے تک نہیں اور اپنے سسرال کی پرواہ نہیں کرتے۔یہ کتنا بڑا گناہ ہے۔وہ کہتے تھے کہ انہوں نے وہیں بیٹھے بیٹھے تو بہ کی اور دل میں عہد کیا کہ اب جا کر اپنی بیوی سے معافی 190