عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 184 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 184

عائلی مسائل اور ان کا حل ہے اور خلع لڑکیوں کی طرف سے ، عورتوں کی طرف سے لیا جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتا یا جرمنی میں بھی افسوسناک صورتحال ہے“۔مزید فرمایا ”طلاق اور خلع اسلام میں گوجائز ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے اور مکروہ ہے۔(سنن ابی داؤد کتاب الطلاق باب فی کراھیۃ الطلاق حدیث 2178) پس ایک مومنہ اور مومن کی شان تو یہ ہے کہ اگر بامر مجبوری ایسی باتوں سے واسطہ پڑ بھی جائے تو پھر انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے، خدا تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے حق بات کہو۔سچ کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دو، کیونکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتا“۔(جلسه سالانه جر منی خطاب از مستورات فرمودہ 25 جون 2011ء) حضور انور نے طلاق یا خلع کی صورت میں پردہ پوشی کی نصیحت کرتے ہوئے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا: اب میاں بیوی کے بہت سے جھگڑے ہیں جو جماعت میں آتے ہیں ، قضا میں آتے ہیں، ضلع کے یا طلاق کے جھگڑے ہوتے ہیں اور طلاق ناپسندیدہ فعل ہے۔بہر حال اگر کسی وجہ سے مرد اور عورت میں نہیں بنی تو مرد کو حق ہے کہ وہ طلاق دے دے اور عورت کو حق ہے کہ وہ خلع لے لے اور بعض دفعہ بعض باتیں صلح کروانے والے کے سامنے بیان کرنی پڑتی ہیں۔اس حد تک تو موٹی موٹی باتیں بیان کرنا جائز ہے لیکن بعض دفعہ ایسے 184