عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 183 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 183

طلاق یا خلع عائلی مسائل اور ان کا حل اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مرد اور عورت کی علیحدگی کو ناپسندیدہ لیکن مجبوری کی صورت میں جائز قرار دیا ہے۔اس حوالہ سے حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: بعض دفعہ شادی کے بعد میاں بیوی کی نہیں بنتی، طبیعتیں نہیں مانتیں یا اور کچھ وجوہات پیدا ہوتی ہیں تو اسلام نے دونوں کو اس صورت میں علیحدگی کا حق دیا ہے اور یہ حق بعض شرائط کی پابندی کے ساتھ مردوں کو طلاق کی صورت میں ہے اور عورتوں کو خلع کی صورت میں ہے“۔(جلسہ سالانہ یو کے خطاب از مستورات فرمودہ 31 / جولائی 2004 ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 24/ اپریل 2015ء) حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے علیحدگی کی صورت میں بعض اخلاقی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: خلع اور طلاقوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے۔یہ خوفناک صورتحال ہے۔یہ ایک جگہ قائم نہیں بلکہ میں نے جائزہ لیا ہے ہر سال خلع اور طلاقوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔دونوں فریق کچھ سچ کچھ جھوٹ بول کر اپنا کیس مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر آپس میں بعض غلط بیانیاں کر کے اپنا اعتماد ایک دوسرے کے لئے کھو دیتے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا۔یہ بات میرے لئے قابل فکر اس لئے ہے کہ خلع کی تعداد جماعت میں بہت بڑھ رہی 183