عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 169 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 169

عائلی مسائل اور ان کا حل میں ظاہری طور پر تو ہر ایک کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن کسی بیوی کی کسی خوبی کی وجہ سے بعض باتوں کا اظہار ہو جائے جو میرے اختیار میں نہیں تو ایسی صورت میں مجھے معاف فرما اور یہ ایک ایسی بات ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے اور خدا تعالیٰ جس نے انسان کو پیدا کیا اور پھر ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت بھی دی، جو بندے کے دل کا حال بھی جانتا ہے جس کی پاتال تک سے وہ واقف ہے ، غیب کا علم رکھتا ہے۔اس نے اس بارہ میں قرآن کریم میں واضح فرما دیا ہے کہ ایسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے کہ بعض حالات کی وجہ سے تم کسی طرف زیادہ جھکاؤ کر جاؤ۔ایسی صورت میں یہ بہر حال ضروری ہے کہ جو اس کے ظاہری حقوق ہیں، وہ مکمل طور پر ادا کرو۔جیسا کہ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ وَ إِنْ تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رحما (النساء: 130) اور تم یہ توفیق نہیں پاسکو گے کہ عورتوں کے در میان کامل عدل کا معاملہ کرو خواہ تم کتنا ہی چاہو۔اس لئے یہ تو کرو کہ کسی ایک کی طرف کلیۂ نہ جھک جاؤ کہ اس دوسری کو گویا لٹکتا ہوا چھوڑ دو اور اگر تم اصلاح کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یقینا اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔تو ایسے معاملات جن میں انسان کو اختیار نہ ہو اس میں کامل عدل تو ممکن نہیں۔لیکن 169