عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 168 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 168

عائلی مسائل اور ان کا حل شادی کرنا چاہتا ہے۔تو پہلی بات تو یہ ہے کہ فرمایا اگر انصاف نہیں کر سکتے تو شادی نہ کرو اور انصاف میں ہر قسم کے حقوق کی ادائیگی ہے۔اگر آمد ہی اتنی نہیں کہ گھر چلا سکو تو پھر ایک اور شادی کا بوجھ اٹھا کر پہلی بیوی بچوں کے حقوق چھینے والی بات ہو گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو ایک جگہ فرمایا ہے کہ اگر مجبوری کی وجہ سے دوسری شادی کرنی ہی پڑے تو پھر اس صورت میں پہلی بیوی کا پہلے سے بڑھ کر خیال رکھو۔(ماخوذ از ملفوظات جلد سوم صفحہ 430 مطبوعہ ربوہ ) لیکن عملا جو آج کل ہمیں معاشرے میں نظر آتا ہے یہ ہے کہ پہلی بیوی اور بچوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف سے آہستہ آہستہ بالکل آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف عمل کر رہے ہوتے ہیں۔پس یہ جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ مالی کشائش اور دوسرے حقوق کی ادائیگی میں بے انصافی تو نہیں ہو گی ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”ہمارے نزدیک یہی بہتر ہے کہ انسان اپنے تئیں ابتلاء میں نہ ڈالے“۔(الحکم جلد 2 نمبر 2 مؤرخہ 6 مارچ 1898ء صفحہ 2۔تفسیر حضرت مسیح موعودڈ سورۃ النساء آیت 4 جلد دوم صفحہ 211) یعنی مراد یہ ہے کہ دوسری شادی کر کے۔پس بیوی کے حقوق کی ادائیگی اتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ انہیں ادانہ کر کے انسان ابتلاء میں پڑ جاتا ہے یا پڑ سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بن جاتا ہے۔میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا کا ذکر کیا تھا کہ آپ ام اللہ تعالیٰ سے یہ دعا عرض کیا کرتے تھے کہ 168