عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 170
عائلی مسائل اور ان کا حل جو انسان کے اختیار میں ہے اس میں انصاف بہر حال ضروری ہے اور ظاہری انصاف جیسا کہ میں بتا آیا ہوں کہ کھانا، پینا، کپڑے، رہائش اور وقت وغیرہ سب شامل ہیں۔اگر صرف خرچ دیا اور وقت نہ دیا تو یہ بھی درست نہیں اور صرف رہائش کا انتظام کر دیا اور گھر یلو اخراجات کے لئے چھوڑ دیا کہ عورت لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتی پھرے تو یہ بھی درست نہیں ہے۔پس ظاہری لحاظ سے مکمل ذمہ داری مرد کا فرض ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور اس کا جھکاؤ صرف ایک طرف ہو اور دوسری کو نظر انداز کرتا ہو تو قیامت کے دن اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کے جسم کا ایک حصہ کٹا ہوا یا علیحدہ ہو گا۔(سنن نسائی کتاب عشرۃ النساء باب میل الرجل حدیث نمبر 3942) پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تقویٰ یہ ہے کہ ظاہری حقوق دونوں کے ادا کرو اور کسی بیوی کو بھی اس طرح نہ چھوڑو کہ وہ بیوی ہونے کے باوجو د ہر حق سے محروم ہو۔نہ اسے علیحدہ کر رہے ہو اور نہ اس کا حق صحیح طرح ادا کیا جارہا ہو۔ایک مومن کا وطیرہ یہ نہیں ہونا چاہئے۔پس مومن کا فرض ہے کہ ان کاموں سے بچے جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اور اپنی اصلاح کرے“۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مئی 2009 ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 105 جون 2009ء) 170