عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 167
عائلی مسائل اور ان کا حل یتیموں سے بھی شادی کرو تو ظلم کی وجہ سے نہ ہو بلکہ ان کے پورے حقوق ادا کر کے شادی کرو اور پھر شادی کے بعد ان کے جذبات کا خیال رکھو اور یہ خیال نہ کرو، یہ کبھی ذہن میں نہ آئے کہ ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں تو جس طرح چاہے ان سے سلوک کر لیا جائے اور اگر اپنی طبیعت کے بارہ میں یہ خوف ہے، یہ شک ہے کہ انصاف نہیں کر سکو گے تو آزاد عورتوں سے نکاح کرو۔دو، تین یا چار کی اجازت ہے لیکن انصاف کے تقاضوں کے ساتھ۔اگر یہ انصاف نہیں کر سکتے تو ایک سے زیادہ نہ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: ” یتیم لڑکیاں جن کی تم پرورش کرو ان سے نکاح کرنا مضائقہ نہیں۔لیکن اگر تم دیکھو کہ چونکہ وہ لاوارث ہیں، شاید تمہارا نفس ان پر زیادتی کرے تو ماں باپ اور اقارب والی عور تیں کرو جو تمہاری مؤدب رہیں اور ان کا تمہیں خوف رہے۔ایک دو تین چار تک کر سکتے ہو بشر طیکہ اعتدال کرو اور اگر اعتدال نہ ہو تو پھر ایک ہی پر کفایت کرو۔گو ضرورت پیش آوے“۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 337) گو ضرورت پیش آوے۔یہ بڑا با معنی فقرہ ہے۔اب دیکھیں اس زمانہ کے حکم اور عدل نے یہ کہہ کر فیصلہ کر دیا کہ تمہاری جو ضرورت ہے جس کے بہانے بنا کر تم شادی کرنا چاہتے ہو، وہ اصل اہمیت نہیں رکھتی بلکہ معاشرے کا امن اور سکون اور انصاف اصل چیز ہے۔آج کل کہیں نہ کہیں سے یہ شکایات آتی رہتی ہیں کہ بچے ہیں، اولاد ہے لیکن خاوند مختلف بہانے بنا کر 167