عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 142

عائلی مسائل اور ان کا حل عمل اُس کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح ہے۔پس جب یہ احساس رہے تو کوئی عورت ایسا عمل نہیں کر سکتی جو اُسے تقویٰ سے دُور ہٹا دے۔ایک بیوی کی حیثیت سے وہ اپنے خاوند سے کامل وفا کرنے والی ہو گی۔خاوند کے گھر کی نگران ہو گی۔اس کے مال کو ضائع کرنے کی بجائے اس کا صحیح مصرف کرنے والی ہو گی۔کئی ایسی عورتیں ہیں جو تقویٰ پر چلنے والی ہیں یا تقویٰ کے ساتھ ساتھ عقل سے بھی چلنے والی ہیں، جو باوجو د تھوڑی آمد کے اپنے خاوند سے ملنے والی رقم میں سے کچھ نہ کچھ بچا لیتی ہیں اور جمع کرتی جاتی ہیں اور بعض دفعہ مشکل حالات میں خاوند کو دے دیتی ہیں۔خاوند کو تو نہیں پتہ ہو تا کہ کیا بچت ہو رہی ہے ؟ اب وہ اُس کے مال کی اِس طرح غیب میں حفاظت کر رہی ہیں یا اگر اُن کو ضرورت ہے تو خاوند کو بتا کر اُس کا استعمال کر لیتی ہیں۔اپنی اولاد کی صحیح نگرانی کرتی ہیں اور یہ اولاد کی نگرانی صرف خاوند کی اولاد ہونے کی وجہ سے نہیں ہو رہی ہوتی بلکہ اس لئے ہو رہی ہوتی ہے اور یہ بھی ایک بہت بڑی وجہ ہوتی ہے کہ یہ قوم کی امانت ہیں۔یہ جماعت کی امانت ہیں۔پھر وہ اپنی دوستیں اور سہیلیاں بھی ایسی عورتوں کو بناتی ہیں جو اعلیٰ اخلاق کی ہیں۔ایک خاوند کی وفادار عورت کبھی غلط قسم کی سہیلیاں نہیں بناتی جو اس کو اس ڈگر پر ڈالیں جو غلط ہو کہ خاوند کا پیسہ جتنا نچوڑ سکتی ہو نچوڑ لو۔خاوند کے بغیر سیریں کرنے کے لئے آزادی سے جاؤ آخر تمہاری بھی آزادی کا حق ہے۔جس سے چاہو جس طرح کے چاہو تعلقات رکھو، نہ ہی ایسی مشورہ دینے والی عور تیں 142