تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 50 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 50

ابطال الوہیت مسیح اور نیچے سے دنیا کے طالب اور اہل دنیا اور بدکار ہیں۔دیکھو۔یوحنا ۱۵ باب ۱۹۔اگر تم دنیا کے ہوتے تو دنیا اپنوں کو پیار کرتی۔لاکن اس لئے کہ تم دنیا کے نہیں۔یوحنا ے ا باب ۱۴۔اس لئے کہ جیسے میں دنیا کا نہیں وے بھی دنیا کے نہیں۔چھٹی دلیل مسیح کی الوہیت پر۔میں اور باپ دونوں ایک ہیں۔یوحنا • اباب ۳۰۔جب باپ سے اتحاد ہوا تو مسیح ذات میں خدا سے متحد ہوا۔اس لئے ذات میں خدا ہوا۔جواب :۔مطلق وحدت عیسائیوں کے نزدیک بھی صحیح نہیں کیونکہ باپ اور بیٹا اور روح القدس تینوں الگ الگ بھی ہیں پھر اس وحدت میں جو یوحنا ، ا باب ۳۰ میں مذکور ہے مسیح کی کوئی خصوصیت نہیں کیونکہ یوحنا ۱۷ باب ۲۱ میں حواریوں اور ان لوگوں کے لئے جو ان کی کلام سے مسیح پر ایمان لاویں گے مسیح خدا کے آگے عرض کرتا ہے۔کہ وے سب ایک ہو دیں۔جیسا کہ تو اے باپ مجھ میں اور وے بھی ہم میں ایک ہوں اور یوحناے اباب ! میں ہے اے قدوس باپ اپنے ہی نام سے انہیں جنہیں تو نے مجھے بخشا حفاظت سے رکھتا کہ وے ہماری طرح ایک ہو جاویں۔اور یوحنا کے پہلے خط اباب ۵ خدا نور ہے اور اس میں تاریکی نہیں۔اگر ہم کہیں کہ ہم اس کے ساتھ شراکت رکھتے ہیں اور تاریکی میں چلتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں اور پیچ پر عمل نہیں کرتے۔پر اگر ہم نور میں چلیں جس طرح وہ نور میں ہے تو ہم ایک دوسرے کے ساتھ شراکت رکھتے ہیں۔اور انجیل یوحنا ، ا باب ۳۴ یسوع نے انہیں جواب دیا کیا تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا ہے کہ میں نے کہا تم خدا ہو جبکہ اس نے انہیں جن کے پاس خدا کا کلام آیا خدا کہا اور ممکن نہیں کہ کتاب باطل ہو تم اسے جسے خدا نے مخصوص کیا اور جہان میں بھیجا۔کہتے ہو کہ کفر بکتا ہے۔کہ میں نے کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔اگر میں باپ کے کام نہیں کرتا تو مجھ پر ایمان مت لاؤ۔اور یوحنا ۱۲ باب ۴۴ میں یسوع نے پکار کے کہا کہ وہ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے مجھ پر نہیں بلکہ اس پر جس نے مجھے بھیجا ہے ایمان لاتا ہے۔ان تمام آیات میں غور کرو جس وحدت اور اتحاد کے باعث عیسائیوں نے مسیح کو خدا کہا ہے ایسے وحدت مسیح کے سوا اور ایمانداروں میں بھی موجود ہے گو مسیح میں یہ نسبت عام عیسائیوں اور حواریوں کے یہ اتحاد اعلیٰ درجہ کا ہو۔اصل یہ ہے کہ یہ وحدت اور یکتائی صرف فرمانبرداری کی وجہ سے ہے نہ ۱۸