تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 49 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 49

ابطال الوہیت مسیح ۴۹ کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے تو وہ ابد تک موت ہرگز نہ دیکھے گا۔لوقا باب ۴۔انسان روٹی سے نہیں خدا کی بات سے جیتا ہے۔آیات مذکورۃ الصدر سے صاف واضح ہوتا ہے کہ مردہ ہونا انجیل میں گنہ گار ہونے اور الگ ہونے پر بولا جاتا ہے پس کیا ممکن نہیں کہ ہم کہہ دیں جن کو مسیح نے زندہ کیا ان کو اپنی پاک تعلیم سے نیک بنایا۔اور وہ جو الگ ہو گئے تھے ان کو ساتھ ملایا۔اور ایسے استعاره آمیز اور تخیلی زبان سب الہامی کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔دوسرا معجزہ اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرنا۔یوحنا ۹ باب ۳۹ وے جو نہیں دیکھتے ہیں اور جو دیکھتے ہیں اندھے ہو جاویں۔یہاں بھی اندھا ہونا اور دیکھنا کیسے حقیقی معنوں میں بولا گیا ہے اوراس سے روحانی بصارت اور ائمی مراد ہے۔تیسرا کھانا بڑھانا۔الا کھانا بھی انجیلی محاورہ میں کچھ اور ہی نظر آتا ہے۔یوحنا ۴ باب ۳۴۔یسوع نے کہا میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی بجالاؤں۔یوحنا ۶ باب ۴۸ تا ۵۱۔مسیح کہتا ہے۔زندگی کی روٹی میں ہوں تمہارے باپ دادوں نے بیابان میں من کھایا اور مر گئے۔روٹی جو آسمان سے اتری ہے وہ ہے کہ کوئی آدمی ایسی کھا وے تو نہ مرے۔میں ہوں وہ جیتی روٹی جو آسمان سے اتری اگر کوئی شخص اس روٹی کو کھائے تو ابد تک جیتا رہے اور روٹی جو میں دوں گا۔وہ میرا گوشت جو میں جہان کی زندگی کے لئے دوں گا۔پانی کا محاورہ بھی قابل غور ہے۔یوحنا کہ باب 1۔مسیح ایک عورت کو فرماتے ہیں اگر تو مجھ سے پانی مانگے تو میں جیتا پانی دیتا۔یوحنا باب ۳۷۔اگر کوئی پیاسا ہو مجھے پاس آوے اور پیئے جو مجھے پر ایمان لاتا ہے اس کے بدن سے جیسے کتاب کہتی ہے جیتے پانی کی ندیاں جاری ہوں گی۔نہر اور دریا کا محاورہ۔یرمیاہ ۲ باب ۱۳۔انہوں نے مجھ جیتے پانی کو چھوڑ دیا۔یرمیاہ ۱۷ باب ۱۳۔انہوں نے خدا کو جو آب حیات کا سوتا ہے ترک کیا۔پانچویں دلیل الوہیت مسیح پر۔یوحنا ۸ باب ۲۳ ” تم نیچے سے ہو میں اوپر سے ہوں تم اس جہان کے ہو میں اس جہان کا نہیں“۔اور اوپر سے خدا ہی ہے۔جواب : - مسیح کی اس میں خصوصیت نہیں ہر ایک نیک اور صالح تارک الدنیا اوپر سے ہے ۱۷