تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 51 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 51

ابطال الوہیت مسیح ۵۱ حقیقی اتحاد سے۔خود پولوس رسول کی کلام سے یہ بات ظاہر ہے۔اقرنتی ۶ باب ۱۵ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے بدن مسیح کے اعضا ہیں۔پس کیا میں مسیح کے اعضالے کر کسی کے اعضا بناؤں۔ایسا نہ ہووے۔کیا تم کو خبر نہیں کہ جو کوئی کسی سے صحبت کرتا ہے سواس سے ایک تن ہوا کیونکہ وہ کہتا ہے کہ ایسے دونوں ایک تن ہوں گے۔پر وہ جو خداوند سے ملا ہوا ہے سو اس کے ساتھ ایک روح ہوا ہے۔ساتویں دلیل مسیح کی الوہیت پر :- یوحنا ۱۴ باب ۹۔جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا کیونکہ میں باپ میں ہوں اور باپ مجھ میں۔جواب :- پادری صاحبان ! اس میں بھی حضرت مسیح کی خصوصیت نہیں کیونکہ اسی ۱۴ باب ۲۰ میں ہے۔اس روز تم جانو گے کہ میں باپ میں اور تم مجھ میں اور میں تم میں۔آیت ۲۰ سے صاف واضح ہوتا ہے کہ جیسے مسیح عیسائیوں میں اور عیسائی مسیح میں ہیں ایسے ہی مسیح خدا میں اور خدا میسیج میں تھا۔علاوہ بریں جن آیات سے عیسائیوں نے استدلال کیا ہے ان سے بظاہر ظرف کا مظروف ہونا اور اسی مظروف کا اسی ظرف کے لئے ظرف ہونا ثابت ہوتا ہے اور عیسائی مذہب کے عقائد پر میسیج میں خدا اور جسم کے درمیان ظرف اور مظروف والا نسبت یا حلول والے علاقہ نہیں۔تیسرا جواب یہ ہے کہ مسیح دنیا میں جسم کے لحاظ سے دیکھا گیا نہ روح کے لحاظ سے اور جسم کے اعتبار سے خدا دنیا میں یا آخرت میں نہیں دیکھا جاتا۔پس مسیح کا یہ فرمانا کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے باپ کو دیکھا اپنے ظاہری معنوں سے صحیح نہ ہوگا۔چوتھا جواب یوحنا ۱۷ باب ۲۱ میں لکھا ہے جو شخص ایمان لا دے وہ بھی مسیح اور خدا وند میں ایک ہے پس چاہئے کہ مطابق اس کے ہر ایک عیسائی مسیح کی طرح خدائے بختم ہو۔پانچواں جواب ۲ قرنتی ۶ باب ۱۶ کہ تم زندہ خدا کی ہیکل ہو چنانچہ خدا نے کہا میں اُن میں رہوں گا اوران میں چلوں گا۔پادری صاحبان! غور کرو۔پولوس کے سارے مخاطب خدا کے ہیکل ہیں اور خدا ان میں ہے۔پس چاہے وہ سارے خدائے مجسم ہوں۔پادری صاحبان ! بات یہ ہے۔جو شخص کسی اپنے سے اعلیٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے مثلاً کسی کا نوکر یا ایلچی یا شاگر د یا چیلا یا رشتہ دار یا دوست ہوتا ہے تو اس نو کرا پیچی شاگر د چیلا رشتہ دار دوست کی تعظیم یا تحقیر یا محبت اس کے ۱۹