365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 49 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 49

درس القرآن القرآن نمبر 195 49 يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِأَخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيْهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ (البقرة: 268) مالی قربانیوں کی اہمیت جو جماعت احمدیہ میں ایک بنیادی ستون کی اہمیت رکھتی ہے اس سے مزید واضح ہو جاتی ہے کہ پوری تفصیل سے اس قربانی کے جملہ پہلوؤں کو بیان کر کے اس قربانی کی تاکید کی گئی ہے، اس آیت کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔”اے ایمان والو! تم ان مالوں میں سے لوگوں کو بطریق سخاوت یا احسان یا صدقہ وغیرہ دو جو تمہاری پاک کمائی ہے۔یعنی جس میں چوری یار شوت یا خیانت یا غبن کا مال یا ظلم کے روپیہ کی آمیزش نہیں۔اور یہ قصد تمہارے دل سے دور رہے کہ ناپاک مال لوگوں کو دو۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 356) حضرت مصلح موعودؓ نے اس آیت کے ترجمہ میں فرمایا ہے:۔”اے ایمان دارو! جو کچھ تم نے کمایا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں نیز اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے اللہ کی راہ میں حسب توفیق خرچ کرو اور ناکارہ چیز کو اور جس میں سے تم خرچ تو کرتے ہو مگر خود تم سوائے اس کے کہ اس کے قبول کرنے میں چشم پوشی سے کام لو اسے ہر گز قبول نہیں کرتے صدقہ کے لئے بالا رادہ نہ چنا کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ بالکل بے نیاز اور بہت ہی حمد کا مستحق ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 614 مطبوعہ ربوہ) دو وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ کی تشریح میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔فرماتا ہے یہ صدقات تمہارے ہی فائدہ کے لئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی احتیاج نہیں اگر تم اس کے راستہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہو یا اس کے بندوں کو دیتے ہو تو در حقیقت خدا تعالیٰ کو ہی دیتے ہو۔اس لئے تم اس کے بندوں کو صدقہ دیتے وقت خدا تعالیٰ کی عظمت کو ملحوظ رکھو۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 616 مطبوعہ ربوہ)