365 دن (حصہ سوم) — Page 50
درس القرآن 50 القرآن نمبر 196 الشَّيْطنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ وَاللهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِنْهُ وَ فَضْلاً وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا (البقرة: 269 270) يَنكَرُ إِلَّا أُولُوا الْأَلْبَابِ مالی قربانی الہی جماعتوں کے لئے اپنی سرگرمیوں کے لئے مال کا خرچ اور غرباء کی خدمت کے لئے مال کا عطیہ جو انفرادی اور قومی ترقی کے لئے ضروری ہے اس بارہ میں قرآن شریف نے غیر معمولی طور پر اس کے ہر پہلو کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے اور اس کے رستہ میں جو روک پیدا ہوتی ہے اس کا ذکر بھی اس آیت میں کھول کر بیان فرمایا ہے، فرماتا ہے الشیطن يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ شیطان تمہیں مالی قربانی اور غریبوں کی خدمت سے ڈراتا ہے کہ تم اس کے نتیجہ میں پائی پائی کے محتاج ہو جاؤ گے مگر دوسری طرف شیطان جس چیز کی تحریک کرتا ہے جس چیز کی ترغیب دیتا ہے وہی چیز انسان کی دولت کو سب سے زیادہ اسراف اور ضیاع کا ذریعہ بناتی ہے یعنی گناہ کی زندگی، فحشاء اور عیش و عشرت کی زندگی ، وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةٌ مِنْهُ اور جو تحریک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ نہ صرف گناہ سے بچاتی ہے بلکہ جو گناہ ہو چکا اس کے بداثرات سے بھی محفوظ رکھتی ہے وَفَضْلا اور بڑھ چڑھ کر دیتی ہے وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ اور اللہ واسع ہے۔وہ تمہیں بہت کچھ دے گا اور وہ علیم اور تمہارے ہر کام سے واقف ہے۔شاید تم کہو کہ کیسے معلوم ہو کہ جو تحریک اللہ کی ہے وہ درست اور اعلیٰ ہے اور جو تحریک شیطان کی ہے وہ ٹھیک نہیں تو اس اگلی آیت میں اس کا جواب ہے کہ اس غرض سے اللہ تعالیٰ نے عقل و حکمت عطا فرمائی ہے۔عقل و حکمت کے ترازو میں تول کر دیکھ لو کہ قومی ترقی اور غرباء کی ہمدردی کے لئے مال خرچ کرنا اجر ہے یا عیش و عشرت، فحاشی، جنسی و اخلاقی بے راہ روی کے لئے مال ضائع کرنا بہتر ہے ، فرماتا ہے يُؤْتى الْحِكمَةَ مَنْ يَشَاءُ وہ جسے مناسب دیکھتا ہے حکمت دیتا ہے وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَد أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا اور جس کو حکمت دی گئی اس کو بہت سامال دیا گیا وَ مَا يَذَّكَّرُ إِلا أُولُوا الْأَلْبَابِ مگر عقل رکھنے والے ہی اس بات کو سمجھتے ہیں۔