365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 48 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 48

درس القرآن 48 القرآن نمبر 194 ايَوَدُّ اَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَ أَعْنَابِ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَاَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا اعْصَارُ فِيْهِ نَارُ فَاحْتَرَقَتْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْأَيْتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ (البقرة:267) اس آیت میں بڑے دردناک الفاظ میں مومنوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ مالی قربانیوں کے سلسلہ میں احتیاط سے کام لیں، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔اللہ تعالیٰ ایک اور تمثیل کے ذریعہ انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے۔دنیا میں اگر کسی کے پاس تھوڑا سا مال ہو اور وہ ضائع ہو جائے تو اس کا بھی اسے افسوس ہوتا ہے لیکن اگر کسی کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے ساتھ نہریں بہتی ہوں اور اسے اس باغ میں سے ہر قسم کے پھل ملتے رہتے ہوں اور وہ خود بوڑھا ہو چکا ہو اور اسے زیادہ زندہ رہنے کی امید نہ ہو اس کے بچے چھوٹی عمر کے ہوں جن سے کمائی کی امید نہ ہو تو کیا اس کا دل چاہتا ہے کہ ایک بگولہ زور سے آئے اور اس کے باغ کو جلا دے۔۔ا اگر تھوڑا سا مال ہوتا تو وہ کہہ سکتا تھا کہ خیر تھوڑا سا مال تھا اگر ضائع ہو گیا تو کوئی بڑی بات نہیں یا اگر میرے کام آتا تو کب تک آتا آخر اس نے ختم ہی ہونا تھا۔پھر اگر بوڑھا نہ ہو تا تو خیال کر سکتا تھا کہ میری زندگی میں بچے بڑے ہو جائیں گے اور وہ اپنے لئے جائیداد پیدا کرلیں گے۔لیکن اگر مال بھی زیادہ ہو، خود بھی بوڑھا ہو پھر اس کے بچے بھی چھوٹے ہوں تو وہ کبھی نہیں چاہتا کہ اس کا مال تباہ ہو جائے اور کسی حادثہ سے اس کی تمام جائیداد جل کر فنا ہو جائے اور اگر کسی حادثہ سے اس کی تمام جائیداد جل کر تباہ ہو جائے تو تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ اسے کس قدر صدمہ ہو گا۔یہی حالت قیامت کے دن ان لوگوں کی ہو گی جنہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال خرچ نہیں کئے۔اس وقت ان کے پاس کوئی مال نہیں ہو گا جسے وہ پیش کر سکیں اور نہ اولا د و غیر ہ کام آئے گی اس لئے فرمایا کہ تم اپنا انجام سوچ لو آج تم اپنے لئے سب کچھ کر سکتے ہو مگر آخرت میں کچھ کر نہیں سکو گے۔اگر آج تم اپنا مال خرچ کرو گے تو یہ مال تمہارے لئے وہاں ذخیرہ کے طور پر جمع رہے گا اور تم اس سے فائدہ اٹھا سکو گے ورنہ تم ہلاک ہو جاؤ گے۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 613 مطبوعہ ربوہ)